انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 16 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 16

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث 17 سورة الروم دینا دامن جو پکڑا ہے وہ تمہارے ہاتھ سے چھوٹے نہیں ، ثبات قدم دکھانا ہے وفا کے نمونے ظاہر کرنے ہیں اور خدا کے پیار کو حاصل کرنا ہے۔چوتھی بات ان آیات میں ہمیں یہ بتائی گئی لا يَسْتَخفَنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوْقِنُونَ کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر یقین نہیں رکھتے۔لا يُوقِنُون میں واضح کر کے یہ نہیں بتایا گیا کہ کس بات پر یقین نہیں رکھتے اس واسطے ہم نے اپنی عقل اور اسلام کی عام تعلیم کے مطابق اس کی تفسیر کرتے ہوئے بعض بنیادی باتوں کو اٹھانا ہے تو لا يُوقِنُونَ کے ایک معنی اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں۔دوسرے اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ لوگ جو خدا کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے ایسے لوگ ہیں جو خدا پر یقین نہیں رکھتے۔ایک ایسا گروہ بھی ہے۔تو چوتھی بات ہمیں یہ پتا لگی کہ دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں جو خدا پر یقین نہیں رکھتے۔یہ یقین نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہے، جیسے دہر یہ ہیں ، جیسے کمیونسٹ ہیں جیسے خدا تعالیٰ کے ایسے دشمن جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ زمین سے اس کے نام اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹادیں گے نامعقول دعوے ہیں لیکن بہر حال ایسا دعویٰ کرنے والے تو موجود ہیں یہ دعویٰ کرنے والے کہ اللہ تعالیٰ موجود نہیں اور سب کچھ ویسے ہی چلا آ رہا ہے اور انسان کو خدا پر بھروسہ رکھنے اس پر توکل کرنے کی ضرورت نہیں۔اس سے مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے نزدیک ملے گا کچھ نہیں اور جو وعدہ دیا گیا ہے چونکہ خدا تعالیٰ پر یقین نہیں لفظ پر کیسے یقین ہوگا۔اس پہ یقین نہیں تو وہ خدا پر یقین رکھنے والوں میں سے بعض کے دلوں میں بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دنیا کی طرف بلاتے ہیں۔زمین کی طرف کھینچتے ہیں ان لوگوں کو جو آسمانوں کی رفعتوں کی تلاش میں اپنی زندگیاں گزار نے والے ہیں۔بعض وہ لوگ ہیں جن کو خدا کے وعدہ پر یقین نہیں۔ایک گروہ ایسا بھی ہے دنیا میں کہ جو ام پرسنل گاڈ (Impersonal God) پر ایمان رکھتا ہے۔وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اتنا عظیم اور انسان کی کیا ہستی ہے۔اس کے مقابلے میں شے ہی کوئی چیز نہیں لائے محض ہے۔اس کو کیا ضرورت پڑی کہ ہم سے ذاتی تعلق رکھے۔اگر خدا اپنے بندوں سے ذاتی تعلق نہیں رکھتا تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو وعدے بھی نہیں دے گا اور اگر وعدہ کا کہیں اعلان ہو تو وہ اعلان ایسے لوگوں کے نزدیک غلط ہوگا۔تو پانچویں بات یہ فرمائی کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے جس کے متعلق میں نے بڑے اختصار کے ساتھ ابھی کچھ بتایا ہے اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے ایسے لوگ