انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 246
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۴۶ سورة حم السجدة جو عالمین کا رب ہے۔ہمارا بھی رب ہے۔ہماری ربوبیت کے لئے جو اس نے سامان پیدا کئے اس کی طرف وہی راہنمائی کر سکتا ہے۔اس کے لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ قَالَ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَ مَنْ اَحْسَنُ قَولاً میں جیسا کہ میں نے بتایا عربی لغت کے لحاظ سے تین پہلو پائے جاتے ہیں۔زبان سے اعلان کرنا مذہبی ہدایت کے متعلق ، عقائد کے متعلق دل میں اسی کے مطابق عقیدہ رکھنا اور اس کے مطابق اس کے عمل رکھنا۔پھر آگے اس کی تشریح کر دی عَمِلَ صَالِحًا میں کہ اپنے ایمان کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت اور ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق ان سے نیکی اور وعظ کی بات کرنا اور وَ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة : (۳) کے مطابق ان سے حسن سلوک کرنا ن سے تعلق کو قائم رکھنا۔وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِینَن اور اپنا نمونہ ان کے سامنے رکھنا۔کہنا کہ دیکھو میں نے اپنے رب کو پہچانتا ہے۔میں عرفان ذات وصفات باری رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میرے دل میں صحیح عقیدہ محض اس کی رحمت سے راسخ ہوا۔اس کے مطابق میں اعلان کر رہا ہوں اور وہ اتنا راسخ ہے کہ میرے جوارح میرے دل کے تابع ہو کر ہر وقت خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑا عظیم مضمون بیان کیا ہے۔زبان دی ہے خدا نے (میں اب خلاصہ بیان کرنے لگا ہوں) بولنے کے لئے۔ہر آدمی بولتا ہے۔اچھی باتیں بھی کہتا ہے بری باتیں بھی کہتا ہے امن اور اطمینان پیدا کرنے کے لئے اپنے معاشرہ میں بھی اس کی زبان کام کر رہی ہے اور فساد کرنے کے لئے بھی اس کی زبان کام کر رہی ہے۔تو خدا تعالیٰ نے ہر دو کاموں کے لئے تو زبان نہیں دی۔خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ میں نے زبان دی۔زبان کو آزادی دی لیکن اس آزادی اپنی مرضی سے میری اطاعت زبان کرے، انعام پالے گی۔اگر یہ زبان مجھے چھوڑ کے دوری کی راہوں کو اور مہجوری کے رستوں کو اختیار کرنے والی ہوئی تو شیطان کی گود میں چلی جائے گی۔پھر میری رضا کی جنتیں اس انسان کے لئے نہیں جس کے منہ میں ایسی زبان ہے۔میری رضا کی جنتیں تو اس انسان کے لئے ہیں جس کے مُنہ میں یہ زبان ہے مَنْ اَحْسَنُ قولا کہ جس سے بہتر زبان نہیں۔اور وہ ، وہ زبان ہے جس کا بیان اسلام ( زبان سے اظہار ہو رہا ہے) جس کا عقیدہ اسلام ( راسخ ہے دل کے اندر ) جس کا عمل اسلام۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۰۹ تا ۳۱۵)