انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 244
۲۴۴ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث میں یہ رکھا کہ وہ ظالم ہے۔کیا اس خدا کی طرف بلاتے ہو کہ بعض انسانوں کے ذہنوں میں یہ ہے کہ وہ لڑکوں کو پیدا کرتا ہے اور لڑکیوں کو پیدا کرنے والا کوئی اور ہے کیا اس خدا کی طرف ؟ جو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جزا دیتا ہے، سزا دینے والا کوئی اور ہے کس خدا کی طرف بلاتے ہو تم ؟ اس خدا کی طرف جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کیا، اس تصور کو اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہر عیب سے پاک اور تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔پھر بیسیوں آگے تفاصیل ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔اور دوسرے دعا الی اللہ کے یہ معنی ہیں کہ اس بات کی طرف بلاتے ہیں کہ اگر اپنی خیر چاہتے ہو اس معنی میں کہ اگر یہ چاہتے ہو کہ تم دین اور دنیا میں ترقی کرو تو اس اللہ کی طرف آؤ جو حقیقی رب ہے کہ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی ہستی ربوبیت نہیں کر سکتی۔اس نے انسان کو پیدا کیا اور وعدہ دیا۔چھوڑا نہیں۔ہر فرد ہے جو بنی نوع انسان کو ، اس میں بہت سی قو تیں اور استعداد میں ہمیں نظر آتی ہیں۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا بڑی قوتیں اور استعدادیں دیں اور پھر چھوڑ دیا کہ جاؤ اور اپنے زور بازو اور اپنی عقل سے دین و دنیا کی ترقیات کو حاصل کرو۔اسلام ہمیں یہ نہیں بتا تا۔اسلام یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور ہر قسم کی استعدادیں اور صلاحیتیں تمہیں عطا کیں لیکن تم ان استعدادوں اور صلاحیتوں کی صحیح نشو و نما اور صحیح راہوں پر چل کے جو نشو ونما ہوسکتی ہے وہ خود نہیں کر سکتے جب تک تمہارا زندہ تعلق ربوبیت ربّ کریم سے نہ ہو ، جب تک وہ خود تمہارا رب تمہاری ربوبیت کرنے والا نہ ہو۔تو بلاتے ہیں اس طرف کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو، دینی دنیوی خوشحالی چاہتے ہو ، دینی دنیوی عزتیں چاہتے ہو ، دینی دنیوی سکون اور آرام چاہتے ہو تو اپنے رب کی طرف آؤ۔وہ تمہیں دے گا۔اور ربوبیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بتایا کہ ربوبیت کے لئے اس نے ہدایت نازل کی۔ہدایت نازل کی آدم کے ذریعہ سے بھی اس وقت کے لوگوں کے لئے۔ہر نبی جو شریعت لایا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی بھلائی کے لئے ہدایت نامہ لے کر آیا اور وہ جو نبی کامل تھا وہ کامل شریعت لے کے آ گیا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اب اس ہدایت کے دائرہ سے باہر کھڑے ہو کر تم اپنے رب کی ربوبیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جس رب نے اس ہدایت کو تمہاری بھلائی کے لئے نازل کیا ہے۔یعنی اگر تم اس کا کہنا نہیں مانو گے، اس کی بتائی ہوئی راہوں پر نہیں چلو گے، ان راہوں پر