انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 243 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 243

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۴۳ سورة حم السجدة ہے جو زبان ، عقیدہ اور عمل سے ہو کہ جس سے دعا إلى الله ایسا قائل یعنی ایسی بات کہنے والا جو اس کے مطابق عقیدہ بھی رکھتا ہے، عمل بھی کرتا ہے دعا إلی اللہ اللہ کی طرف بلاتا ہے یا دعوت دیتا ہے۔اللہ کی طرف بلانا۔دعا الی اللہ جو ہے اس کے دو اصولی معنی ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنے کے لئے لوگوں کو آواز دیتا ہے کہ ہر قسم کے شرک کو چھوڑو اور اپنے رب کریم کی طرف واپس آؤ۔جس کے لئے ضروری ہے کہ ایسا شخص عرفان ذات وصفات باری رکھتا ہو یعنی جب تک کوئی شخص خود اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچانتا نہ ہو اور اس کی صفات کی شناخت نہ رکھتا ہو کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے بلا سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں بھی پیدا ہو گئیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ( وہ توحید خالص جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے ) جو ہے وہ ہر قسم کی برائی اور نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔یعنی ایک صفات اس کی ہیں ایسی جن سے اس کی سبوحیت اور تقدس ظاہر ہوتا ہے۔جس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ اس قسم کے جلوے خدا تعالیٰ کی ذات سے ظاہر نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ پاک ہے مثلاً وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔پاک ہے وہ۔اس کو بھی قرآن کریم نے بڑا کھول کے بیان کیا ہے اور میں سوچ رہا تھا تو بہت سارے پہلو اس کے قرآن کریم میں مجھے نظر آئے وہ کسی اور خطبے میں میں بیان کر دوں گا۔وہ بھی بڑا دلچسپ مضمون بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کو پہچانا اور شناخت کرنا اس معنی میں ( دو چیزیں ہیں وہ بھی ساتھ بیان کر دوں) بھی کہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور اس معنی میں بھی کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیب اور نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔وہ قدوس ہے۔سر چشمہ ہے پاکیزگی کا کوئی برائی اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔اگر کوئی دماغ ایسا سوچے تو شیطان اس کو اس کی راہنمائی کرنے والا ہے۔قرآن کریم اس کی راہنمائی کرنے والا نہیں تو ایک معنی دعا الی اللہ کے یہ ہیں کہ توحید خالص کی طرف وہ بلاتا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا اپنا عقیدہ (مَنْ اَحْسَنُ قَولاً میں یہ بھی آیا تھانا، اس کی میں وضاحت کر رہا ہوں) بھی پاک ہو، صحیح ہو، سچا ہو، قرآن کریم کے مطابق ہو، اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کے عین مطابق ہو اور اس کی طرف وہ بلا رہا ہو۔صرف یہ کہہ دینا یا یہ دنیا کو آواز دینا کہ خدا کی طرف آؤ، کافی نہیں کیوں ہر انسان کہے گا کس قسم کے خدا کی طرف تم بلاتے ہو۔کیا اس خدا کے تصور کی طرف جو بعض انسانوں نے اپنے ذہن