انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 242

۲۴۲ سورة حم السجدة تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث اور صداقت اور ہدایت کے مقابلہ میں مخالفت کر رہا ہے یا کہہ رہا ہے اس کو ہم بہتر جانتے ہیں اور ہم ہی اس کا علاج کر سکتے ہیں ہمارے فضلوں کے بغیر تم اس فتح کو نہیں پاسکتے جو فتح تمہارے لئے مقدر ہے۔پس اپنے نفسوں کے جوشوں کو دبائے رکھو اور نفسوں کی بجائے مجھ پر بھروسہ کرو کہ میں سب طاقتوں والا ہوں اور دعائیں کرتے رہو۔رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَتِ الشَّيطِينِ وَ اَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ (المومنون: ۹۸، ۹۹) کہ جو طاقتیں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کرے اور انہیں شکست دے اور اسلام کا نام بلند ہو اور ہر بندہ اپنے رب کو پہچاننے اور حقیقی عبد بن کر اس کے حضور جھک جائے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خدا کرے کہ ہمیں دعاؤں کی توفیق ملے اور خدا کرے کہ ہمارا خدا ہماری دعاؤں کو قبول کرے اور اپنے وعدوں کو ہمارے حق میں پورا کرے۔( خطبات ناصر جلد دوم ۱۱۵ تا ۱۱۸) اللہ تعالى سورة حم السجدة میں فرماتا ہے۔وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی۔اسی کی بات سب سے اچھی ہے جو اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہے اور اپنے ایمان کے مطابق صالح عمل کرتا ہے اور (قال) کہتا ہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یہاں فرمایا کہ وَمَنْ اَحْسَنُ قَولاً قول کے لحاظ سے سب اچھا وہ ہے۔عربی زبان میں 'قول، کا لفظ مختلف معانی میں بولا جاتا ہے۔مفردات راغب نے دس پندرہ معنی اس کے کئے ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر وہ معنی درست استعمال ہوئے قرآن کریم میں۔یہاں جو معنی لگتے ہیں ، جو مفردات راغب نے بھی کئے ہیں، یہ ہیں کہ اس سے مراد صرف زبان کا اعلان بعض دفعہ نہیں ہوتا یعنی ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ صرف زبان سے اعلان کرنا، بیان کرنا ، کہنا یہ مراد نہیں۔اس سے مراد صرف زبان کا اعلان ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ مراد بھی ہوتی ہے إِذَا كَانَ مَعَهُ اعتقاد و عمل کہ اس زبان کے بیان کے ساتھ عقیدہ بھی اسی کے مطابق ہو جس کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور عمل صالح بھی اسی کے مطابق ہوں جن کا تعلق جوارح کے ساتھ ہے۔جب زبان کے اعلان کے ساتھ دل کا اعتقاد اور اس کے مطابق عمل ہو تو اس معنی میں قول کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور یہاں اسی معنی میں ”قول “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ اعلان کیا کہ سب سے اچھا قول وہ