انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 241

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۴۱ سورة حم السجدة اس لئے ادفع بالتي هي اَحْسَنُ ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ احسن جس کا اس آیت میں اور دوسری آیت میں ذکر ہے اس کے ذریعہ تم بُرائی کا جواب دو۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم شر سے کلی طور پر پاک بھی ہو جاؤ تب بھی شیطان ایسا انتظام کرے گا کہ وہ اپنے ماننے والوں میں سے بعض کو فساد پر اکسائے گا اور امن کی فضا کو مکدر کرے گا۔پس ہر وہ مسلمان احمدی جو دنیا کے ملک ملک میں اس وقت پھیلا ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر فساد اور فتنہ کے حالات طاغوتی طاقتیں پیدا کرنا چاہیں تو ہمارا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم ان کے پھندے میں نہ آنا بلکہ اپنے نفسوں پر قابورکھنا اور جو اَحْسَنُ ہے اس کے ذریعہ اپنا دفاع کرنا۔حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی نہایت ہی بدزبان شخص مخالف اسلام قادیان میں آئے اور ایک سال ہمیں نہایت گندی اور مخش گالیاں دیتا رہے تب بھی دنیا یہ دیکھے گی کہ ہمیں اپنے نفس پر قابو ہے اور ہم گالی کے مقابلہ پر گالی نہیں دیتے اور الشیقہ کے مقابلہ پر الشیقہ کو پیش نہیں کرتے بلکہ الشیعہ کے مقابلہ میں ہم حسنہ کو پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے بغیر تم اپنے مخالفوں کے دل جیت نہیں سکتے لیکن اگر تم ہماری تعلیم کے مطابق احسن چیز کو دنیا کے سامنے رکھو گے تو وہ جو آج تمہارے مخالف اور بدگو ہیں تمہارے دوست اور بڑے جوش کے ساتھ تمہاری دوستی کا اظہار کرنے والے بن جائیں گے مگر اس کے لئے ہمیں انتہائی صبر کی ضرورت ہے انتہائی طور پر اپنے نفس کو عقل اور شرع کی پابندیوں میں جکڑنے کی ضرورت ہے یہی صبر کے معنی ہیں کہ جو پابندیاں شرع لگاتی ہے وہ آدمی بشاشت سے اور خوشی سے خدا کی رضا کے لئے قبول کرے اور ایسا ہی کرتے ہیں جو ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ہوتے ہیں یعنی جن پر اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے نہ کہ ان کے کسی عمل کی وجہ سے بہت رحمتیں نازل کرتا ہے اور جس کے متعلق صحیح معنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ روحانی طور پر ایسے ہی ہیں جیسا کہ دنیوی لحاظ سے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق دنیا کی نگاہ یہ بجھتی ہے کہ وہ حظ عظیم رکھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پھر یہ فرما یا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَة کہ جو احسن ہے اس سے الشیقہ کو دور کرو اور اس الشیعہ کے اثر سے خود کو بچاؤ اور یہ یاد رکھو کہ تمہیں تو طاقت حاصل نہیں کہ تم روحانی میدانوں کے فتح مند سپاہی بن سکو۔یہ ہمارے فضل سے ہوتا ہے اور نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ جو اسلام