انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 15

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۵ سورة الروم متعلق ہوئی کہ سات سو سال مسلمانوں نے وہاں حکومت کی اور جب وہ مغلوب ہوئے تو مخالفین نے ایک بھی مسلمان باقی نہیں چھوڑا۔بہت دعائیں کرنے کی ایک رات توفیق ملی کہ خدایا تیری رحمت میں رہے صدیوں، تیری رحمت سے محروم ہوئے صدیاں گزرگئیں۔پھر ان کے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کر۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ سامان تو پیدا کر دیئے جائیں گے لیکن تیری خواہش کے مطابق نہیں۔اللہ تعالیٰ جب چاہے گا وہ سامان پیدا کرے گا اور آخر یہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔غلبہ اسلام کے دائرہ سے سپین کی قوم باہر نہیں رہے گی۔تو اِن وَعْدَ اللهِ حَقٌّ خدا تعالیٰ پر انسان بدظنی نہیں کر سکتا۔بدظنی کرنے والا ہلاک ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی جو طاقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی آج بھی وہی طاقت ہے اس کی۔اس کی طاقتوں میں کمزوری پیدا نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ کی جو عظمت اور علو شان اور اس کی کبریائی پہلے تھی جو پہلے ہمیشہ رہی وہ آئندہ ہمیشہ رہے گی۔پچھلی طرف منہ کریں تو نہ پہلے زمانہ کی کوئی انتہا ہے جہاں ہماری نظر ٹھہر جائے نہ آئندہ کے متعلق ہماری عقلیں مستقبل کا کوئی ایسا مقام ڈھونڈ سکتی ہیں کہ جس کے بعد کوئی زمانہ نہ ہو اور جس کے بعد خدا تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے جلوے ختم ہو جائیں۔ازلی ابدی خدا ہمیشہ پیار کرنے والوں سے پیار کرنے والا ، قربانی دینے والوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں لے جانے والا ہے آزمائش کرتا ہے تا سچے اور جھوٹے میں فرق کرے تا پختہ اور منافق ایمان والے میں فرق کرے تا کمزور ایمان والے کی جو تھوڑی سی عظمت ہے اس میں اور اس عظیم عظمت میں فرق کرے تا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے عظیم تھے ان کی عظمتوں میں اور آپ کی امت میں جو آپ کے غلام جو آپ کے پاؤں کے قریب بیٹھنے والے جو خود کو آپ کی جوتی کے برابر بھی نہ سمجھنے والے ہیں اور اس فدائیت اور پیار اور جاں شاری کے نتیجہ میں خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہیں ان دو فرقوں کو وہ ظاہر کرے۔یہ اپنی جگہ درست لیکن خدا کا وعدہ خدا کا وعدہ ہے۔وہ جو اتنی عظمتوں والا ہے کہ جن عظمتوں کا انسان تصور نہیں کر سکتا جو تھوڑے وعدے یا چھوٹے وعدے جن کو ہم نسبتاً چھوٹے کہتے ہیں وہ بھی بڑے عظیم ہیں کیونکہ ان کا سر چشمہ اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تو تیسری بات یہ فرمائی کہ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَق گھبرانا نہیں۔بدظنی نہ کرنا، جادہ استقامت کو چھوڑ نہیں