انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 239

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۹ سورة حم السجدة عظمت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا تھا لا يَمَسُّةَ إِلا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) که قرآن کریم کا فہم وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو پاک اور مطہر ہو کیونکہ یہ پاک کا کلام ہے اور پاک کے سینے میں ہی یہ نور پیدا کر سکتا ہے۔خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۴۵۲، ۴۵۳) آیت ۳۴ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ انبیاء علیہم السلام جہاں دنیا کی بھلائی کے لئے ان کی خیر خواہی کے لے ہر قسم کے اچھے کام کرتے ہیں وہاں ان پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو جھنجھوڑیں اور جگائیں اور کہیں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہو گے تو وہ ناراض ہو جائے گا اور تمہیں اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انذار ( موعظہ کے اندر ہی انذار کا پہلو بھی آتا ہے کیونکہ موعظہ اس نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار ملا ہوا ہو ) تو پہنچانا ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے لیکن اچھے رنگ میں پہنچاؤ جس سے وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اس سے نفرت اور فرار کے پہلو کو اختیار نہ کریں وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور وہ ایک غلط رائے پر قائم ہیں اور غلط عقائد پر وہ کھڑے ہیں اس لئے تم جَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی ہدایت پر عمل کرو۔جدال کے معنی رائے کو موڑ دینے کے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ جو اختلافات وہ تم سے رکھتے ہیں ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے فساد کی راہیں نہیں بلکہ امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کرو اور اس طرح پر ان کے خیالات کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کرو۔جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سننے یا پڑھنے کے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ احسن کیا ہے کیا اس احسن کی تلاش ہم نے خود کرنی ہے یا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی طرف راہ نمائی فرمائی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِینَ کہ قول کے لحاظ سے احسن وہ ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔پس ہر وقت جو صیح طریق پر دی گئی ہو اور جس کا مقصود یہ ہو کہ خدائے واحد و یگانہ کو دنیا پہنچاننے۔