انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 14
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۱۴ سورة الروم فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ پس تو صبر سے کام لے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور خدا تعالیٰ سے بخشش مانگتارہ اور اپنے رب کی شام اور صبح حمد کے ساتھ ساتھ تسبیح بھی کرتارہ۔ان آیات میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ کہ ہر حالت میں صبر پر قائم رہنا ہے۔انسانی زندگی میں کوئی ایک موقع بھی ایسا نہیں آتا کہ جہاں بے صبری کی اسے اسلام نے اجازت دی ہو۔دوسری بات چونکہ اسلام حکمت کا مذہب ہے دلیل بھی ساتھ ساتھ دیتا ہے۔جو لوگ صبر واستقامت دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان سے عظیم وعدہ یہ ہے کہ وعدوں کے مطابق ان سے وہ پیار کا سلوک کرے گا۔جیسے جیسے اعمال ہیں ان کی جو جو جزا اور ثواب اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں بیان کیا ہے اس کے وہ حقدار بن جائیں گے محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔تیسرے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے۔اگر کوئی حکم دینے والی ہستی ایسی ہو کہ حکم دے اور وعدہ بھی کرے لیکن ایفائے عہد کی طاقت نہ رکھتی ہو تو انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں جو احکام ہیں ان کو بجا بھی لاؤں لیکن فائدہ یقینی نہیں۔تو یہاں یہ تسلی دلائی گئی ہے کہ اگر دنیا دار کوئی وعدہ کرے تو ہزار بدظنیاں ہو سکتی ہیں۔دنیا دار اگر کوئی وعدہ کرے تو ہزار امکان اس بات کا ہوسکتا ہے کہ خواہش کے باوجود وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے۔ہزار حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ پہلے طاقت رکھتا تھا وعدہ پورا کرنے کی اب اس سے وہ طاقت چھین لی گئی۔ہزار امکان ایسا ہے کہ پہلے اس کا دل خدا کی طرف جھکا ہوا تھا اور اب شیطان کے قبضے میں آپ کا اور اس لئے وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا۔خدا تعالیٰ پر تو اس قسم کی کوئی بدظنی کی ہی نہیں جاسکتی۔الا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ جو خدا کا وعدہ ہے وہ بہر حال پورا ہو کر رہے گا لیکن جیسا کہ ہمیں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے متعلق یہ اصولی بات بتائی کہ خدا کا وعدہ اس رنگ میں اور اس وقت پورا ہو گا جس رنگ میں اور جس وقت وہ پورا کرنا چاہے گا۔انسان اللہ تعالیٰ کو ڈکٹیٹ (Dictate) نہیں کراسکتا۔زور بازو سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنا وعدہ اس شکل میں اور اس وقت پورا کر۔بہت سی ایسی قومیں ہمیں تاریخ انسانی میں نظر آتی ہیں جن سے کئے گے وعدے صدیوں بعد اسی طرح پورے ہوئے جس طرح وعدے کئے گئے تھے لیکن صدیاں انہوں نے انتظار میں گزاریں۔ایسی قوم بھی ہمیں نظر آتی ہے کہ وعدہ چار سال کے بعد پورا ہو گیا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ جب میں سپین میں گیا تو بڑی بے چینی اور پریشانی اس ملک کے