انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 222

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۲۲ سورة حم السجدة تعلیمات اور آپ کے اُسوہ حسنہ کی روشنی میں تمہارے ذہن میں یہ بات ہی نہیں آنی چاہیے اور ہر انسان کی خواہ وہ اپنی زندگی میں کسی بھی ادنیٰ مقام پر تمہیں نظر کیوں نہ آئے اس کی عزت و احترام کرنی چاہیے۔اس کی ہمدردی اور خیر خواہی کرنی چاہیے اس کو اپنے سے کم تر اور ذلیل نہیں سمجھنا چاہیے۔اُسے بھائیوں کا سا درجہ دیتے ہوئے اپنے برابر بٹھانا چاہیے اور اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ تم بھی ہماری طرح معزز ہو۔پس ہمارے معاشرہ کا غریب اور کمزور حصہ اس حسن اخلاق اور اس حسن سلوک کا محتاج ہے وہ تمہارے پیار اور محبت کا بھوکا پیاسا ہے۔تم ان کی اس بھوک اور پیاس کو مٹانے کی کوشش کرو تا کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے دل میں جاگزیں ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ تعلیم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ حسنہ ہی انہیں متاثر کر سکتا ہے اسی طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دیکھو بشر کے مقام کو ایک جیسا کر کے اس میں اونچ نیچ نہ رکھ کر اس میں پہاڑیاں اور وادیاں نہ بنا کر خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مقام پر لا کھڑا کیا ہے اس کی کوئی حکمت ہونی چاہیے، اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ بغیر حکمت کے تو کوئی کام نہیں کرتا اور وہ حکمت یہ ہے کہ جب مٹی کے پتلوں نے احسن تقویم کی شکل کو اختیار کر لیا اور اس میں بلند پردازی کی طاقت رکھ دی گئی تو فرمایا اب تم سیر روحانی شروع کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرو۔تم عاجزانہ رنگ میں کوشش کرتے ہوئے ، ہر وقت خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے ، اپنے آپ پر کوئی فخر نہ کرتے ہوئے، تکبر کی ہر لعنت سے بچتے ہوئے خدا تعالیٰ کے سامنے جبین نیاز رکھ کر اس کی مدد طلب کرتے ہوئے ، اس سے استغفار کرتے ہوئے ہر غیر سے منہ موڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے سیر روحانی کو شروع کرو اور اپنی اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو اس کے فضل اور اس کی رحمت کو حاصل کرو۔اگر آپ بشر کو بشر کے مقام سے گرا دیتے ہیں تو آپ اس کو وہ پیغام کس طرح پہنچا سکتے ہیں جو احسن تقویم سے شروع ہو کر انسان کو بلندیوں تک لے جاتا ہے۔بشر کے مقام سے ورے ہمیں سیر روحانی نظر نہیں آتی۔سیر روحانی کا آغاز بشریت کی سطح سے شروع ہوتا ہے اگر آپ ان کو بشر نہیں سمجھتے اور بشر کی حیثیت میں عزت و احترام کا وہ درجہ نہیں دیتے جو خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیا ہے تو آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام مؤثر طریق پر ان کے کانوں تک کیسے پہنچا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں