انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 220
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۲۲۰ سورة حم السجدة وقت اور موقع محل کے مطابق ہوں گے اور تیسرے یہ کہ ان کے اعمال خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں گے۔پس وہ عمل جو فساد سے خالی ہو ( اور فساد کے آگے لمبی تفصیل خود قرآن کریم نے بیان کی ہے میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا ) اور پھر وہ موقع ومحل کے مطابق بھی ہو اور ایسا ہو کہ جس کو اختیار کر کے یہ کہا جا سکے کہ یہ وہ شخص ہے جو اس گروہ میں شامل ہو گیا جس کے متعلق آتا ہے وَهُدُوا إلى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (الحج : ۲۵) صراط حمید اس راہ کو کہتے ہیں کہ وہ جس منزل تک انسان کو پہنچائے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں قابل تعریف ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ بھی اس کی تعریف کرنے لگے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے پس جن اعمال میں یہ تین خصوصیتیں پائی جائیں گی وہ اعمال صالحہ کہلائیں گے اور ان اعمال صالحہ کے بجالانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اعمال صالحہ بجا لانے میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں معزز بن جاؤ گے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی نگاہ میں ذلیل ہو جاؤ گے۔چنانچہ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات (جن کی میں نے شروع میں تلاوت کی تھی) کے علاوہ اور بھی کئی جگہ بار بار دہرایا ہے یہ بتانے کے لئے کہ توحید خالص کو قائم کرنا بڑا ہی ضروری ہے۔سورۃ کہف کی آیہ کریمہ کو تو حید خالص کے ذکر سے شروع کیا اور اس کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ شرک سے پر ہیز کرو۔سورہ حم سجدہ کی آیہ کریمہ میں جہاں یہ اعلان فرما یا إِنَّمَا أَنَا بَشر مثلكم وہاں شروع میں یہ فرمایا کہ اب تو حید خالص تمہیں بشر کے مقام سے اُٹھا کر قرب الہی کے اعلیٰ مقام تک پہنچا سکتی ہے کیونکہ تو حید خالص پر عمل قائم ہونا وحی الہی یعنی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لئے فرما یا اِنَّمَا الهُم الهُ وَاحِدٌ فرما یا وحی کے ذریعہ سکھایا ہے کہ تم روحانی رفعتوں کو کن ہدایات پر عمل کر کے حاصل کر سکتے ہو۔جیسا کہ میں نے ابھی تشریح کی ہے پہلے یہ فرمایا تھا کہ اعمال صالحہ بجالا نا۔دوسری جگہ فرمایا کہ خالی اعمال صالحہ بجالانے کافی نہیں بلکہ استقلال اور استقامت سے اعمال صالحہ بجالانا ضروری ہے۔یہ نہیں کہ رمضان کے پہلے پندرہ دن روزے رکھ لئے اور دو دو گھنٹے تک نماز تراویح پڑھنے میں لگے رہے لیکن اگلے پندرہ دن تاش کھیلنے میں گزار دئے۔فرمایا۔فَاسْتَقِيمُوا الَيْهِ اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع کی حالت میں استقلال اور استقامت پیدا کرو اور یہی کیفیت اعمال صالحہ کے بجالانے دورود