انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 13
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۳ سورة الروم وہ جو یہ سمجھتا ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے مشن ، اپنے مقصد میں کہ اسلام پھر دُنیا میں غالب آئے، نا کام ہوگی اسلام غالب آئے گا انشاء اللہ۔( خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۴۵۴ تا ۴۵۷) قرآن عظیم میں صبر کے موضوع پر ایک سو سے زائد آیات میں بیان ہوا ہے۔یہ ایک بنیادی حکم ہے جس کا تعلق تمام قرآنی احکام سے ہے اوامر ہوں یا نواہی ہوں۔صبر کے معنی ہیں جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبے میں بھی ذرا تفصیل سے بیان کیا تھا اصل معنی اس کے یہ ہیں کہ حَبْسُ النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْلُ وَالشَّرْعُ أَوْ إِمَّا يَقْتَضِيَانِ حَبْسَهَا عَنْهُ (مفردات زیر لفظ صبر ) نفس کو روکے رکھنا قابو میں رکھنا ان چیزوں کے کرنے نہ کرنے سے جو عقل کا تقاضا ہو یعنی فطرت انسانی کا حکم ہو یا شریعت اسلامیہ کا تقاضا ہو اور مفردات راغب نے لکھا ہے کہ یا ہر دو کا تقاضا ہو۔چونکہ اسلام دینِ حکمت ہے اس لئے تمام اسلامی احکام شریعت کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے والے ہیں اور انسانی فطرت اور عقل کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے والے ہیں۔اس کے معنی میں بہت وسعت ہے۔اسی واسطے ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی عزیز فوت ہو جائے تو وہ صبر سے کام لے یعنی بلاوجہ نا معقول طور پر وہ رونا پیٹنا نہ شروع کر دے بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اس حد تک اور اس طریق پر غم کا اظہار کرے جس کی انسانی فطرت یا شریعت اسلامیہ نے اجازت دی ہے یا جب مخالف زور کے ساتھ اور طاقت کے ساتھ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرے تو اس وقت صبر اور استقامت کے ساتھ اس کے مقابلے میں شریعتِ اسلامیہ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کھڑے ہوجانا اور پیٹھ نہ دکھانا یہ صبر ہے اور با قاعدگی کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ نماز با جماعت کا ادا کرتے رہنا اس پر استقامت اختیار کرنا یہ صبر ہے۔تو ہر حکم کے ساتھ اس کا اصل میں تعلق آ جاتا ہے کہ نفس کو روکے رکھنا اس چیز سے جس چیز سے روکا گیا ہے یعنی وہ نہ کرے اور جس چیز کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کو نہ کرنے کی طرف مائل نہ ہو، اس میں سستی نہ دکھائے۔یہ جو دو آیات میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں ان ہر دو کا جو تر جمہ ہے وہ میں پہلے پڑھ دیتا ہوں۔پس استقلال سے اپنے ایمان پر قائم رہو۔فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقَّ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تجھے دھوکہ دے کر اپنی جگہ سے ہٹا نہ دیں۔