انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 217
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۱۷ سورة حم السجدة اور تم میں کوئی فرق نہیں۔انسانی شرف اور اس کے احترام کے لئے اس سے بڑھ کر عظیم اعلان اور کیا ہو سکتا تھا آپ نے بنی نوع انسان سے فرمایا کہ جب ہر فرد بشر بطور بشر میرے جیسا ہے تو دو چیز میں لازم آتی ہیں یعنی اس سے آگے پھر دو نتیجے نکلتے ہیں۔ایک یہ کہ ہر فرد بشر کی عزت و احترام لازمی ہے۔اگر کوئی کسی کی بے عزتی کرے گا یا کسی کو بنظر حقارت دیکھے گا تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کہ تم نے میری بے عزتی کی اور مجھے حقارت کی نظر سے دیکھا کیونکہ میرا مقام شرف بطور بشر کے اس سے بڑھ کر نہیں ہے تم نے کسی کی بے عزتی کی تو گویا میری بے عزتی کی۔اس واسطے یہ بات یادرکھنا کہ کسی بھی شخص کی بے عزتی نہیں کرنی۔کسی کو بھی حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا ہر ایک کی عزت و احترام کرنا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں ایسی گندی عادت پڑ گئی ہے کہ بات بات میں ایک دوسرے کو طعنے دیتے ہیں ایک دوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ کا کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ اُن کا ہر ایسا فعل در اصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہونے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والا ہے۔آج دنیا پیار کی بھوکی ہے عزت واحترام کی متلاشی ہے آج دنیا میں ہمیں جو بے چینی نظر آ رہی ہے اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کو بطور بنی نوع انسان کے اشرف المخلوقات نہیں سمجھا گیا حالانکہ سارے انسان ایک ہی طرح کے ہیں اور اشرف المخلوقات کے شرف سے مشرف ہیں بحیثیت بشر کوئی بھی کسی دوسرے سے بزرگ و برتر نہیں۔اس لئے ہر مسلمان کو دوسرے کی عزت و احترام کرنا چاہیے۔اگر وہ دوسرے کی عزت و احترام نہیں کرتا تو وہ دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و احترم نہیں کرتا یہ بڑا خطرناک مقام ہے۔ہر آدمی کو سمجھایا جائے تو وہ سمجھ سکتا ہے چہ جائیکہ ایک احمدی جو بدرجہ اولیٰ اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کی خاطر یہ کارخانہ عالم وجود میں آیا تھا بشر ہونے کے لحاظ سے آپ کی عزت و احترام کی طرح ہر انسان کی عزت و احترام واجب ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے انسانی عزت و احترام کے قیام کا یہ ایک زبردست اعلان ہے۔آج دنیا اس کی متقاضی ہے۔غیر تو غیر ہیں خود ہم مسلمانوں میں بھی اس طرف توجہ نہیں رہی۔ہم نے غریب کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے ہم نے لاوارث کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے ہم نے یتیم کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے ہم نے کم علم یا آن پڑھ کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے اس کے برعکس دولت مند کی عزت کرنی شروع کر دی گئی ہے ہم مسلمان