انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 216

تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۲۱۶ سورة حم السجدة بھی حکم دوں گا تیری فطرت اس کو قبول کرے گی اور اس سے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھے گی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم:۷) ( یعنی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کے پابند ہوتے ہیں اس حکم سے باہر نہیں نکل سکتے ) کی رو سے یہی تفسیر کی ہے کہ فرشتوں کی اس تعریف کے مطابق تو پھر مخلوق کا ہر ذرہ فرشتہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ قدرت ہی نہیں دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی مرضی سے ٹال سکیں۔اس کے نتیجہ میں وہ قہر خداوندی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔انسان بسا اوقات تیار ہو جاتا ہے مگر یہ چیزیں تیار نہیں ہوتیں۔پس اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ بڑا ہی احسان ہے کہ جس چیز کو اس نے ہماری خدمت پر لگایا ہے اس کو یہ اجازت ہی نہیں دی کہ وہ رسہ تڑوا کر بھاگ جائے اور ہماری خدمت کرنے سے انکار کر دے۔الغرض ساری چیزیں اپنے اپنے کام پر لگی ہوئی ہیں۔انسان کو بشریت کے مقام پر لا کھڑا کیا اور فرمایا اے بنی نوع انسان ! اس مٹی سے پیدائش کی جو بہترین شکل بن سکتی تھی وہ شکل میں نے تمہیں عطا کر دی ہے۔احسن تقویم میں میں نے تمہیں پیدا کر دیا ہے۔تمہیں اشرف المخلوقات بنادیا ہے دنیا کی ہر چیز تمہاری خدمت پر لگا دی ہے۔اب تمہاری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے خادم اور اس کے بندے بن جاؤ تمہارا کام اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنا نہیں ہے تمہارا کام مخلوق کے آگے سر جھکانا اور اُن سے مانگنا بھی نہیں ہے نہ ہی تمہارا یہ کام ہے کہ تم بعض کو بعض پر ترجیح دو۔تم اشرف المخلوقات ہو تم میں سے ہر ایک کی عزت اور شرف اور مرتبہ بحیثیت انسان ایک دوسرے کے برابر ہے یہاں تک کہ افضل البشر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق بتقاضائے بشریت دوسرے انسانوں ہی کی طرح تھے۔در حقیقت یہ ایک عظیم اعلان ہے۔جب ہم اس کے متعلق سوچتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں۔اس قدر عظیم اعلان بنی نوع انسان کے سامنے کیا گیا ہے جس کی عظمت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھتا ہو اور اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہوتے ہوئے بشریت کے مقام سے سیر روحانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گئے اور ایسا عظیم قرب حاصل کیا کہ اس سے زیادہ قرب تصور میں بھی نہیں آسکتا۔نہ کسی ماں جائے نے بھی اتنا قرب حاصل کیا اور نہ ہی آئندہ کر سکتا ہے تاہم آپ کی زبان مبارک سے یہ کہلوایا گیا کہ بشر ہونے کی حیثیت میں مجھ میں