انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 215

۲۱۵ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث بلند ہے تو ظاہر ہے کہ ہم پر کس قدر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔آج دنیا ایک دوسرے کی عزت اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا سبق بھول چکی ہے۔جو شخص امیر بن جاتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کچھ مال دے دیتا ہے ( جو دراصل اس کے امتحان کے لئے ہوتا ہے ) تو وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میرا رب میری کچھ خوبیاں دیکھ کر مجبور ہو گیا تھا کہ مجھے مال عطا کرے اور دنیوی نعمتوں سے نوازے وہ یہ نہیں سمجھتا کہ مال دے کر دراصل میرا امتحان لیا جا رہا ہے بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرا مال و دولت میری عزت و احترام کی نشانی ہے اس لئے اپنے سے کم تر آدمی کو حقیر قرار دینے لگ جاتا ہے، اس کے ساتھ محبت اور حسن سلوک سے پیش نہیں آتا۔اس کی عزت و احترام نہیں کرتا اگر وہ کسی وقت اس کے گھر میں آ جائے تو اسے دھکے دے کر باہر نکال دیتا ہے اور اگر کبھی اس سے بات بھی کرے گا تو اس حال میں کہ ماتھے پر تیوری چڑھانے اور آنکھوں میں غیض و غضب کے آثار نمودار ہوں گے مگر یہ امیر شخص اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ بحیثیت بشر ہونے کے جو مقام اس کا ہے وہی مقام اس غریب آدمی کا بھی ہے جو اس کو ملنے آیا ہے۔وہ یہ بھول رہا ہوتا ہے کہ اسلام تو انسانی عزت اور اس کے شرف کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہیں سے دراصل سیر روحانی کی ابتداء ہوتی ہے اور انسان اپنے مقصد حیات کو پالیتا ہے اور سیر روحانی کی ابتدا ء صرف انسان سے ہوسکتی ہے گدھے یا گھوڑے سے نہیں ہو سکتی ، گیدڑ یا چمگادڑ سے نہیں ہوسکتی ، بھیڑیے یا سؤر سے نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ تو بوجہ خادم انسان ہونے کے خادمانہ طاقتیں لے کر اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور خادمانہ زندگی گزارنا ہی اُن کا مقصد حیات ہے۔ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے مسخر کی گئی ہے آگے یہ انسان کی اپنی سمجھ اور استعداد پر منحصر ہے کہ وہ ان سے کہاں تک فائدہ اُٹھاتا ہے لیکن ان کی پیدائش کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کی خدمت کریں اور یہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس سے بڑھ کر احسان ہمارے تصور اور گمان میں بھی نہیں آسکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کونہ صرف انسان کی خدمت پر مامور کیا ہے بلکہ انسان کو ان پر شرف اور رتبہ بھی بخشا۔انسان کے وسیع تر اختیارات سے ان کو نیچے رکھا۔ان کی فطرت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ چاہیں تو وہ انسان کی خدمت کریں اور چاہیں تو نہ کریں ورنہ تو ہماری شیروں سے بھی لڑائی ہوتی گیدڑوں سے بھی لڑائی ہوتی۔بچھوؤں سے بھی لڑائی ہوتی آپس میں رقابت کی جنگ شروع ہو جاتی لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ہر ایک چیز کو انسان کا خادم بنادیا اور اُسے یہ کہا کہ میں تجھے جو