انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 211

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۱۱ سورة حم السجدة آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ مخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے بلکہ سچا محب بلا کے اُترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بگلی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے اسی کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُونَ بِالْعِبَادِ (البقره: ۲۰۸) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی جس کو سمجھنا ہو سمجھے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۹ تا ۴۲۱) (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۱۸ تا ۲۲۲) میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کا ایک عظیم نعرہ تھا جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن عظیم میں لگایا گیا۔جس نے تمام انسانوں کو بحیثیت انسان ایک مقام پر لا کھڑا کر دیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تو کوئی اور وجود نہ پہلوں میں پیدا ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہو گا۔آپ کے منہ سے یہ کہلوایا کہ میں تمہارے جیسا انسان اور تم میرے جیسے انسان ہو۔اس سے انسان کی اتنی عزت اور احترام قائم ہو گیا کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے، سب انسانوں کو اس مقام پر کھڑا کر کے پھر آپ نے کہا دیکھو! میں تمہارے جیسا انسان ہوں ، میرے اندر بھی تمہارے جیسی قوتیں اور استعدادیں ہیں آؤ اب دیکھو میں اخلاقی دنیا میں، روحانی دنیا میں کس طرح بلندیاں اور رفعتیں حاصل کرتا ہوں میں تو اپنے ظرف کے مطابق اونچا جاؤں گا تم بھی اپنے ظرف کے مطابق بلندیوں کو حاصل کر سکتے ہو۔اس لکیر پر جہاں سب برابر کر دیئے گئے ٹھہرنا نہیں بلکہ بلندیوں کی طرف پرواز کرنی ہے لیکن اس مقام پر اس سطح پر سب کو یہ کہہ کر اکٹھا کردیا۔إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم پس انسانیت پر سب سے بڑا جو احسان حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی بحیثیت انسان عزت قائم کی اور اس کا احترام قائم کیا اور اس کا شرف