انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 210

۲۱۰ سورة حم السجدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث دنیوی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں۔اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ سچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے تو اس وقت نامردی نہ دکھلا وہیں اور بز دلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں ذلت پر خوش ہو جائیں موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوسرے دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بے کس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جا ئیں اور ہر چہ بادا باد کہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضا و قدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہر گز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلاویں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے۔یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک میں سے اب تک خوشبو آ رہی ہے۔اسی کی طرح اللہ جلشانہ اس دعا میں اشارہ فرماتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة : - ) یعنی اے ہمارے خدا ہمیں استقامت کی راہ دکھلا دے وہی راہ جس پر تیرا انعام و اکرام مترتب ہوتا ہے اور تو راضی ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ فرمایا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (ال عمران: ۱۲۷) اے خدا! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آجائے اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہیے کہ دکھ اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔جب باخدا