انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 12
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۲ سورة الروم دنیا میں بھی وہ پاتا ہے جو خدا سے دور رہنے والے کبھی پانہیں سکتے اور عقبیٰ میں بھی وہ اُس کو ملے گا جس تک خود مومن کا بھی تخیل اس دُنیا میں نہیں پہنچ سکتا۔کہا گیا وہاں وہ ہو گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔اُن لذتوں کا تو ذکر ہی کیا کیونکہ ہمارے ادراک سے وہ باہر ہیں اور ہماری عقل وہاں تک پہنچ نہیں سکتی لیکن اس دُنیا میں جو جنت اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے پیدا کی اور جسے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دُنیا میں حاصل کیا۔یہ جنت آج پھر ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے اور آسمان کے سارے دروازے ہمارے لئے کھول دیئے گئے ہیں۔ہمت کر کے عزم کے ساتھ اپنے پورے ایمان اور اخلاص اور قربانی اور ایثار کے ساتھ ہم نے ان دروازوں کی طرف بڑھنا ہے اور ان میں داخل ہو کر اس زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی جنت کو حاصل کر لینا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔اس لئے بے وقوف ہے وہ مخالف،خواہ وہ سیاسی اقتدار رکھتا ہو، دنیاوی وجاہت رکھتا ہو یا مادی اموال رکھتا ہو۔جو یہ سمجھتا ہو کہ چونکہ اُسے الہی وعدوں پر یقین نہیں اس لئے وہ جماعت احمدیہ کو بھی الہی وعدوں سے پرے ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گا یہ تو ہو نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی رحمت سے ہمیں ایمان اور یقین اور معرفت اور محبت اور ایثار کے مقام پر کھڑا کیا ہے اگر اس کا فضل نہ ہوتا تو یہ کمزور انسان ایک لحظہ کے لئے بھی ان تمام مخالفتوں کے ہوتے اس مقام پر کھڑا نہ رہ سکتا۔ہمارے سر اس کے حضور جھکتے ہیں ہماری روح اُس کی حمد سے بھری ہوئی ہے ہم اس کے پیار کو دیکھتے ہیں ایک لحظہ کے پیار کو دُنیا کی ساری دولتوں سے زیادہ قدر والا اور زیادہ قیمتی پاتے ہیں اور اُسے چھوڑ کر کسی اور طرف منہ نہیں کر سکتے۔دھو کہ میں ہیں وہ جو جماعت کے متعلق اس کے خلاف کچھ سمجھتے ہیں اور مجنون ہیں وہ جو یہ مجھتے ہیں کہ اپنی دھن کے پکے لوگوں کا یہ گروہ جواحمدیت کے نام سے موسوم ہوتا ہے یہ نا کام ہو سکتا ہے جو پیدا کرنے والے رب کی گود میں بیٹھ کر زندگی گزار نے والا جو اس کے پیار کے ہاتھ کو اپنے سر پر اور اپنے سینہ پر اور اپنی پیٹھ پر پھرتے محسوس کرنے والا ہے جس کے کان میں اُس کی آواز آرہی ہے کہ اسلام غالب آکر رہے گا اور تمہارے ذریعہ سے غالب آئے گا۔جس کے دل میں یہ یقین ہے کہ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے ہیں وہ قربانیوں سے ڈرا نہیں کرتا۔وہ اپنے مقام کو چھوڑ ا نہیں کرتا۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ مجنون ہے