انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 205
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۰۵ سورة حم السجدة بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة حم السجدة آیت قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمْ الهُ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ۔اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں فرماتا ہے کہ تو دنیا میں اعلان کر دے کہ میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک انسان ہوں اللہ تعالیٰ نے میرے پر کامل وحی کی ہے۔جس کی غرض یہ ہے کہ انسان کا اپنے ربّ کے ساتھ ایک پختہ اور حقیقی تعلق قائم ہو جائے۔تمہاری طرح کا ایک انسان ہونے کے باوجود میں نے اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم پر عمل کر کے اور خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے تقاضوں کو پورا کر کے اس سے ایک پختہ اورسچا اور حقیقی تعلق پیدا کر لیا ہے۔اسی طرح تم بھی ایک پختہ تعلق اپنے رب سے پیدا کر کے اس کی رضا اور اس کی رحمت کو حاصل کر سکتے ہو۔پس شریعت اسلامیہ کے نزول کی اصل غرض بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تمام مذاہب کے نزول، تمام صحف سماوی کے نزول اور تمام انبیاء کی بعثت کی غرض یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنی استعداد اور قوت کے مطابق اپنے رب سے ایک تعلق جو حقیقی ہو جس میں کوئی فساد نہ ہو جو سچا ہو قائم کرے۔انسانی قویٰ میں بہترین نشوونما کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک اعلیٰ اور ارفع شریعت نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نے یہ ثابت کیا کہ اس شریعت پر عمل پیرا ہو کر انسان کا اپنے رب کے ساتھ اس قسم کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ انسان اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں اس کی ہر قسم کی رحمتوں اور اس کی ہر قسم کی رضا کا وارث بن جاتا ہے اور ایک ایسی زندگی پاتا ہے جس سے بہتر کوئی زندگی ہو نہیں سکتی۔