انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 200
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة المؤمن کی طاقتوں میں کمزوری پیدا نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ کی جو عظمت اور علو شان اور اس کی کبریائی پہلے تھی جو پہلے ہمیشہ رہی وہ آئندہ ہمیشہ رہے گی۔پچھلی طرف منہ کریں تو نہ پہلے زمانہ کی کوئی انتہا ہے جہاں ہماری نظر ٹھہر جائے نہ آئندہ کے متعلق ہماری عقلیں مستقبل کا کوئی ایسا مقام ڈھونڈ سکتی ہیں کہ جس کے بعد کوئی زمانہ نہ ہو اور جس کے بعد خدا تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے جلوے ختم ہو جائیں۔ازلی ابدی خدا ہمیشہ پیار کرنے والوں سے پیار کرنے والا، قربانی دینے والوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں لے جانے والا ہے آزمائش کرتا ہے تا بچے اور جھوٹے میں فرق کرے تا پختہ اور منافق ایمان والے میں فرق کرے تا کمزور ایمان والے کی جو تھوڑی سی عظمت ہے اس میں اور اس عظیم عظمت میں فرق کرے تا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوسب سے عظیم تھے ان کی عظمتوں میں اور آپ کی امت میں جو آپ کے غلام جو آپ کے پاؤں کے قریب بیٹھنے والے جو خود کو آپ کی جوتی کے برابر بھی نہ سمجھنے والے ہیں اور اس فدائیت اور پیار اور جاں نثاری کے نتیجہ میں خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہیں ان دو فرقوں کو وہ ظاہر کرے۔یہ اپنی جگہ درست لیکن خدا کا وعدہ خدا کا وعدہ ہے۔وہ جو اتنی عظمتوں والا ہے کہ جن عظمتوں کا انسان تصور نہیں کر سکتا جو تھوڑے وعدے یا چھوٹے وعدے جن کو ہم نسبتاً چھوٹے کہتے ہیں وہ بھی بڑے عظیم ہیں کیونکہ ان کا سر چشمہ اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تو تیسری بات یہ فرمائی کہ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّی گھبرانا نہیں۔بدظنی نہ کرنا، جادہ استقامت کو چھوڑ نہیں دینا دامن جو پکڑا ہے وہ تمہارے ہاتھ سے چھوٹے نہیں، ثبات قدم دکھانا ہے وفا کے نمونے ظاہر کرنے ہیں اور خدا کے پیار کو حاصل کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ساتویں ہمیں یہ بتایا کہ ان کے مکر اور فریب سے بچے رہنے کے تین اصول تین گر ہیں ایک کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں یعنی صبر و استقامت کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔دوسرا ذریعہ اس فریب سے بچنے کا استغفار ہے۔انسان بہر حال کمزور ہے اور بشری کمزوری کے نتیجہ میں ایسے کام کر بیٹھتا ہے جو خدا تعالیٰ کو پسندیدہ نہیں۔انسان محض اپنی طاقت سے شیطانی حملہ سے بچ نہیں سکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہو اور خدا تعالیٰ شیطانی حملہ سے اپنی تدبیر سے اپنی رحمت سے اسے بچائے اس واسطے کہا استغفار کرو۔خدا تعالیٰ سے مغفرت چاہو، مغفرت کے دو معنی ہیں۔ایک یہ کہ گناہ سرزد نہ ہو انسان اپنی کوشش