انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 11
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث "1 سورة الروم کا کوئی امکان ہے۔جن کو یہ یقین نہیں وہ اُس جماعت کو بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ہے اور اس پختہ یقین پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدے بیچتے ہیں وہ پورے ہوتے ہیں اور دنیا کا کوئی منصوبہ انہیں نا کام نہیں کر سکتا۔قرآن کریم نے فرمایا:۔لَا يَسْتَحْفَنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ جو خُدائی وعدوں پر ایمان نہیں رکھتے وہ دھوکہ دہی سے مومن کو اُس کے مقام معرفت اور مقام یقین سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن کے دھوکے میں مومن نہیں آیا کرتا۔مومن کو تو یہ حکم ہے اور اُس کی زندگی اس حکم کی عملی مثال ہے کہ فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقَّ الله تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہوگا۔اس لئے استقلال کے ساتھ اور صبر کے ساتھ انتہائی قربانیاں دیتے ہوئے ، مالی بھی اور جانی بھی اور دوسری ہر قسم کی ، آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ کیونکہ تمہاری ہی جھولیوں میں خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کے پورا ہونے سے حاصل ہونے والی برکتوں کا پھل گرنے والا اور تمہیں ہی ان سے فائدہ پہنچنے والا ہے۔مخالف اپنی مخالفت میں بڑھتا ہے اور مومن اپنے یقین۔میں ترقی کرتا ہے۔مخالف اپنے منصوبوں کو تیز کرتا ہے اور مومن اپنے سر کو اور بھی جھکا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ اعمال بجالاتا ہے جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار اُسے حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت اُسے ملتی اور فرشتوں کی فوجیں آسمان سے نازل ہوتیں اور اُس کا ہاتھ بٹاتیں اور کامیابی کی منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کے حضور متضرعانہ جھک کر یہ درخواست کرتے رہنا چاہیے کہ ہم کمزور ہیں۔ہم کمزور سہی اے ہمارے رب ! لیکن ہم نے تیرے دامن کو پکڑا ہے اور تیرے اندر کوئی کمزوری نہیں۔اس لئے جب ہم تیری پناہ میں آگئے تو ہمیں ڈرکس بات کا ؟ سوائے اس ڈر کے کہ کہیں اپنی کسی غفلت اور کوتاہی اور کمزوری اور بے ایمانی کے نتیجہ میں تو ہمیں جھٹک کر پڑے پھینک دے اور تیری حفاظت ہمارے شامل حال نہ رہے، جب تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت انسان کے ساتھ ہے جب تک اسے اُس کی نصرت ملتی رہتی ہے جب تک اللہ تعالیٰ کے پیار کا سایہ اُس کے سر پر ہوتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُس کی مدد کے لئے آسمانوں سے اُترتے رہتے ہیں اُس وقت تک مومن جو خدا کی طرف خود کو منسوب کرتا اور اُس کے حضور قربانیاں پیش کرنے والا ہے صبر اور استقلال کے ساتھ اُس مقصد کی طرف ( جو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَق ) حرکت کرتا ہے اور آخر کا میاب ہوتا ہے اور اس