انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 199

تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۹۹ سورة المؤمن حکم دے اور وعدہ بھی کرے لیکن ایفائے عہد کی طاقت نہ رکھتی ہو تو انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں جو احکام ہیں ان کو بجا بھی لاؤں لیکن فائدہ یقینی نہیں۔تو یہاں یہ تسلی دلائی گئی ہے کہ اگر دنیا دار کوئی وعدہ کرے تو ہزار بدظنیاں ہوسکتی ہیں۔دنیا دار اگر کوئی وعدہ کرے تو ہزار امکان اس بات کا ہوسکتا ہے کہ خواہش کے باوجود وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے۔ہزار حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ پہلے طاقت رکھتا تھا وعدہ پورا کرنے کی اب اس سے وہ طاقت چھین لی گئی۔ہزار امکان ایسا ہے کہ پہلے اس کا دل خدا کی طرف جھکا ہوا تھا اور اب شیطان کے قبضے میں آچکا اور اس لئے وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا۔خدا تعالیٰ پر تو اس قسم کی کوئی بدظنی کی ہی نہیں جاسکتی۔الا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ جو خدا کا وعدہ ہے وہ بہر حال پورا ہوکر رہے گا لیکن جیسا کہ ہمیں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے متعلق یہ اصولی بات بتائی کہ خدا کا وعدہ اس رنگ میں اور اس وقت پورا ہوگا جس رنگ میں اور جس وقت وہ پورا کرنا چاہے گا۔انسان اللہ تعالیٰ کو ڈکٹیٹ (Dictate) نہیں کراسکتا۔زور بازو سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنا وعدہ اس شکل میں اور اس وقت پورا کر۔بہت سی ایسی قومیں ہمیں تاریخ انسانی میں نظر آتی ہیں جن سے کئے گے وعدے صدیوں بعد اسی طرح پورے ہوئے جس طرح وعدے کئے گئے تھے لیکن صدیاں انہوں نے انتظار میں گزاریں۔ایسی قوم بھی ہمیں نظر آتی ہے کہ وعدہ چار سال کے بعد پورا ہو گیا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ جب میں سپین میں گیا تو بڑی بے چینی اور پریشانی اس ملک کے متعلق ہوئی کہ سات سو سال مسلمانوں نے وہاں حکومت کی اور جب وہ مغلوب ہوئے تو مخالفین نے ایک بھی مسلمان باقی نہیں چھوڑا۔بہت دعائیں کرنے کی ایک رات توفیق ملی کہ خدا یا تیری رحمت میں رہے صدیوں ، تیری رحمت سے محروم ہوئے صدیاں گزر گئیں۔پھر ان کے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کر۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ سامان تو پیدا کر دیئے جائیں گے لیکن تیری خواہش کے مطابق نہیں۔اللہ تعالیٰ جب چاہے گا وہ سامان پیدا کرے گا اور آخر یہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔غلبہ اسلام کے دائرہ سے پین کی قوم باہر نہیں رہے گی۔تو اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَق خدا تعالیٰ پر انسان بدظنی نہیں کرسکتا۔بدظنی کرنے والا ہلاک ہوتا ہے خدا تعالی کی جو طاقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی آج بھی وہی طاقت ہے اس کی۔اس