انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 198

۱۹۸ سورة المؤمن تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث فطرت اور عقل کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے والے ہیں۔اس کے معنی میں بہت وسعت ہے۔اسی واسطے ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی عزیز فوت ہو جائے تو وہ صبر سے کام لے یعنی بلا وجہ نا معقول طور پر وہ رونا پیٹنا نہ شروع کر دے بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اس حد تک اور اس طریق پر غم کا اظہار کرے جس کی انسانی فطرت یا شریعتِ اسلامیہ نے اجازت دی ہے یا جب مخالف زور کے ساتھ اور طاقت کے ساتھ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرے تو اس وقت صبر اور استقامت کے ساتھ اس کے مقابلے میں شریعت اسلامیہ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کھڑے ہوجانا اور پیٹھ نہ دکھا نا یہ صبر ہے اور با قاعدگی کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ نماز با جماعت کا ادا کرتے رہنا اس پر استقامت اختیار کرنا یہ صبر ہے۔تو ہر حکم کے ساتھ اس کا اصل میں تعلق آ جاتا ہے کہ نفس کو رو کے رکھنا اس چیز سے جس چیز سے روکا گیا ہے یعنی وہ نہ کرے اور جس چیز کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کو نہ کرنے کی طرف مائل نہ ہو، اس میں سستی نہ دکھائے۔یہ جو دو آیات میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں ان ہر دو کا جو تر جمہ ہے وہ میں پہلے پڑھ دیتا ہوں۔پس استقلال سے اپنے ایمان پر قائم رہو۔فَاصْبِرُ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقَّ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہوکر رہے گا اور چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تجھے دھوکہ دے کر اپنی جگہ سے ہٹا نہ دیں۔فَاصْبِرُ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ پس تو صبر سے کام لے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہوکر رہے گا اور خدا تعالیٰ سے بخشش مانگتارہ اور اپنے رب کی شام اور صبح حمد کے ساتھ ساتھ تسبیح بھی کرتارہ۔ان آیات میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ کہ ہر حالت میں صبر پر قائم رہنا ہے۔انسانی زندگی میں کوئی ایک موقع بھی ایسا نہیں آتا کہ جہاں بے صبری کی اسے اسلام نے اجازت دی ہو۔دوسری بات چونکہ اسلام حکمت کا مذہب ہے دلیل بھی ساتھ ساتھ دیتا ہے۔جو لوگ صبر واستقامت دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان سے عظیم وعدہ یہ ہے کہ وعدوں کے مطابق ان سے وہ پیار کا سلوک کرے گا۔جیسے جیسے اعمال ہیں ان کی جو جو جزا اور ثواب اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں بیان کیا ہے اس کے وہ حقدار بن جائیں گے محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔تیسرے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے۔اگر کوئی حکم دینے والی ہستی ایسی ہو کہ