انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 197 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 197

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۹۷ سورة المؤمن تفصیلی علم یہی کتاب دیتی ہے جس کے بغیر تو حید پیچ معنی اور حقیقی رنگ میں قائم نہیں ہوسکتی۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے متعلق بھی علوم کے سمندرا اپنے اندر بند کر دیئے ہیں اور تمہارے فائدہ کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔پس تم اس خدائے واحد و یگانہ کے قرب کے حصول کے لئے اس کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات حسنہ کا عرفان حاصل کرو اور قرآن کریم کی روشنی میں ہی تم ایسا کر سکتے ہو۔پس قرآن کریم کو توجہ سے پڑھوا اور توجہ سے سنو اور عزم اور استقلال اور صبر کے ساتھ اس پر عمل کرو اور دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نور سے حصہ حاصل کرو اور نور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ تم تو حید خالص پر کھڑے ہو جاؤ اور توحید خالص کو پالینے کے بعد دنیا کی ساری کامیابیاں مل جاتی ہیں اور کوئی نا کامی بھی انسان کے حصہ میں نہیں رہتی۔آٹھویں صفت حسنہ یا اندرونی خوبی قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمائی ہے وَالَيْهِ المَصِيرُ کہ اس عظیم کتاب کو نازل کرنے والی وہ ذات پاک ہے جس کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے اور اس خدا نے اس قرآن کے ذریعہ انسان کو معاد کا کامل اور مکمل علم دیا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۳۲ تا ۳۴۰) آیت ۵۶ فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ قرآن عظیم میں صبر کے موضوع پر ایک سو سے زائد آیات میں بیان ہوا ہے۔یہ ایک بنیادی حکم ہے جس کا تعلق تمام قرآنی احکام سے ہے اوامر ہوں یا نواہی ہوں۔صبر کے معنی ہیں جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبے میں بھی ذرا تفصیل سے بیان کیا تھا اصل معنی اس کے یہ ہیں کہ حَبْسُ النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيهِ الْعَقُلُ وَالشَّرْعُ أَوْ إِمَّا يَقْتَضِيَانِ حَبْسَهَا عَنْهُ (مفردات زیر لفظ صبر ) نفس کو روکے رکھنا قابو میں رکھنا ان چیزوں کے کرنے نہ کرنے سے جو عقل کا تقاضا ہو یعنی فطرت انسانی کا حکم ہو یا شریعت اسلامیہ کا تقاضا ہو اور مفردات راغب نے لکھا ہے کہ یا ہر دو کا تقاضا ہو۔چونکہ اسلام دینِ حکمت ہے اس لئے تمام اسلامی احکام شریعت کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے والے ہیں اور انسانی