انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 196 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 196

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث را ہیں تم پر کھولی جائیں۔۱۹۶ سورة المؤمن اور اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم یا فرد کوکوئی احسان یا انعام عطا کرتا ہے تو اس پر بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ان ذمہ داریوں کا ذکر بھی قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔ان کی طرف بھی ہمیں متوجہ ہونا چاہیے۔انعام واکرام کا ذکر ذی الطولِ میں ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال تو میرے نزدیک وہ ہے۔جو فر ما یا اتممتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى (المائدة : (۴) كه اسلام اور اسلامی شریعت کے ذریعہ میں نے اپنی شریعت کو نعمت عظمی بنا دیا ہے اور نعمت عظمی کے طور پر میں اسے تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے وَ اسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمن: ٢١) کہ تم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے پانی کی طرح بہا دیا۔جیسے فلڈ (Flood) آتا ہے ہر ایک چیز کے اوپر چھا جاتا ہے اور ہر چیز کو اپنے نیچے لے لیتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نعمتوں نے ہمارے نفس نفس اور ہمارے ذرہ ذرہ کو ڈھانپ لیا ہے۔لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللهُ (لقمن: ۲۲) کہ اب تم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اس کی تم اتباع کرو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے کفران نعمت کرو گے تو اس کی سزا پاؤ گے۔مگر قرآن کریم اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ خدا کے غضب کو تم جذب کرو اور اس کے قہر کے تم مورد بنو۔قرآن کریم کے نزول کی غرض تو یہ ہے کہ ذی الطولِ خدا کی طرف تمہیں متوجہ کرے اور تم اس کی نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے اس کے شکر گزار بندے بنو اور جو ہدایت اور تعلیم اور شریعت اور فرائض اور احکام اس نے نازل کئے ہوئے ہیں ان کی اتباع کرنے والے ہو۔(۷) ساتویں صفت حسنہ قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے لا الہ الا ھو کہ جس خدا نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہ اکیلا ہی پرستش کا سزاوار اور حقدار ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پس اس کتاب کی بنیادی صفت یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی کہ یہ کتاب اور اس کی تعلیم اور اس کی شریعت اور اس کی ہدایتیں اور وہ نور جو اس سے نکلتا ہے۔اور اس کے ماننے والوں کے جسموں اور ان کی روحوں میں داخل ہوتا اور نفوذ کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں انسان خالص توحید پر کھڑا ہوتا ہے۔قرآن نہ ہوتا تو دنیا میں توحید خالص بھی نہ پائی جاتی۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات حسنہ کے متعلق کامل