انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 195
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۹۵ سورة المؤمن کر دیا گیا ہے کہ کسی طریق سے بھی ہم پر تیری لعنت نازل نہ ہو۔قرآن کریم کبھی ایسے اعمال صالحہ کی نشان دہی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں شیطانی اندھیرے نور میں بدل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آتا ہے اور اس کے عذاب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تسلی دلائی کہ اگر تم قرآنی ہدایت پر عمل کرو گے تو میں فرشتوں کو مقرر کروں گا کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں اور وہ یوں دعا کریں گے۔رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرُ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (المؤمن:۸) کہ ایسے لوگوں پر تو اپنا رحم کر کیونکہ تو بڑے علم والا ہے اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچالے جو تو بہ کرتے ہیں اور وہ طریق اور شریعت کی جو راہیں تو نے قرآن کریم میں بتائی ہیں ان پر عمل کر رہے ہیں۔اسی طرح سورۃ الدھر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے جذبات کے غلام نہیں ہوتے بلکہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں اور صبر کی راہوں پر گامزن ہوتے ہیں۔( کافور کی ملاوٹ ) اپنی نذریں ادا کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ کہیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہ ہو وہ لوگ جو اس کی رضا کے لئے مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے۔ریا، عجب،خودروی خودرائی اور دکھاوا ان میں نہیں ہوتا۔نہ وہ احسان جتاتے ہیں، اپنے نفسوں اور اپنے نفس کی بدخواہشات اور میلانات سے جدا ہو کر محض اپنے رب کیلئے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں۔فَوَقهُمُ اللهُ شَرِّ ذلِكَ الْيَوْمِ (الدھر : ۱۲) کہ اس دن کے عذاب سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بچالے گا۔تو جب یہ کہا کہ میرا عذاب بڑا سخت ہے۔جب میں پکڑتا ہوں۔جب میری گرفت میں کوئی آتا ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی عذاب تصور میں نہیں آ سکتا۔فرمایا۔اس شَدِيدُ الْعِقَابِ خدا نے قرآن کریم کو اتارا ہے اور ہمیں اس واضح حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اس کتاب میں ہمیں وہ طریق بتائے گئے ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ایک دو مثالیں دے کر بیان کیا ہے۔(۶) چھٹی صفت حسنہ یا اندرونی خوبی قرآن کریم کی جن الفاظ میں بیان کی گئی ہے وہ ذی الطولِ ہے۔یعنی اس اللہ نے یہ کتاب اتاری ہے جو بڑا احسان کرنے والا اور بڑا انعام کرنے والا ہے۔اور اس کتاب کے نزول کی یہ غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے جذب کرنے کی