انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 194
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۹۴ سورة المؤمن اپنی شدت میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَمَّا عَادُ فَأَهْلِكُوا بِرِيج لا صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَ ثَنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعى كَانَهُمْ أَعْجَازُ نَخْلِ خَاوِيَةٍ فَهَلْ تَرى لَهُم مِّنْ بَاقِيَة - (الحاقة : ۷ تا ۹ ) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عاد کی قوم پر جو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوا تھا اس کا مختصر ا مگر بڑے ہی مؤثر طریق پر بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ ایک ایسا عذاب تھا جس میں ساری قوم کو تباہ کر دیا گیا۔فَهَلْ تَرى لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ کیا ان کا کوئی نشان بھی تمہارے سامنے آتا ہے؟ وہ کلیتا صفحہ ہستی سے مٹادئے گئے۔اس لئے کہ انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ وہ رب جو ان کا پیدا کرنے والا تھا، جو اس قدر ان پر رحم کرنے والا تھا، جو اس قدران پر انعام کرنے والا تھا اس کے نتیجہ میں ان پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں لیکن انہوں نے کفر اور ناشکری کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی بجائے شیطان کو اپنا دوست بنالیا تب ساری کی ساری قوم کو اللہ تعالیٰ نے صفحہ ہستی سے مٹادیا اور ان کا کوئی نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔اس قسم کے واقعات کا ذکر کثرت سے قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اور ایک مقصد ان کا یہ ہے کہ تا ان واقعات کو سن کر ہمارے دل خوف سے لرز اٹھیں اور ہم یہ عہد کریں کہ قرآن کریم نے جو تعلیم ہمارے سامنے رکھی ہے جس سے خدا راضی ہوتا ہے اور جس کو چھوڑ کر خدا کی ناراضگی مول لینی پڑتی ہے، ہم کبھی بھی اس تعلیم کو چھوڑیں گے نہیں بلکہ اس تعلیم کو اپنا ئیں گے۔اس تعلیم کو اس طرح اپنے جسموں اور روحوں میں جذب کر لیں گے جس طرح خون ہمارے اندر بہہ رہا ہے۔تا کہ خدا کا غضب کسی شکل میں بھی اور اس کی لعنت کسی صورت میں بھی ہمارے اوپر نازل نہ ہو۔پھر قرآن کریم وہ کتاب ہے جو کبھی خدا کی لعنت اور اس کے غضب سے بچنے کی دعائیں سکھاتی ہے کیونکہ شَدِیدُ الْعِقَابِ ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کا عذاب بندوں پر نازل ہو۔تو پہلی قوموں کی مثالیں دے کر ہمارے دلوں میں اپنا خوف پیدا کیا۔پھر ہمیں دعائیں سکھائیں کہ یہ دعائیں کرتے رہوتا کہ میرا غضب تم پر نازل نہ ہو۔سب سے بہتر اور کامل دعا تو سورۃ الفاتحہ ہی ہے جس میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحہ:۷) ہے یعنی جس میں خدا کی لعنت سے پناہ مانگی گئی ہے اور چونکہ خدا کی لعنت کے مورد دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک مغضوب علیہ اور ایک ضال۔اس لئے دونوں کا ذکر کر کے ایک طرح حصر لا