انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 193
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۹۳ سورة المؤمن اور تمہارا رب تم سے راضی ہو جائے اور اس کی نظر میں تم ایسے بن جاؤ کہ کبھی تم سے گناہ سرزد ہی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ b مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَبِكَ يَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (النساء : ۱۸ ) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تو بہ کس طرح اور کن لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوتی ہے اور وہ کون لوگ ہیں کہ جن کی تو بہ ان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔یہ تو ایک مثال ہے جو اشارہ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ورنہ قرآن کریم بھرا پڑا ہے ایسی آیات سے جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ توبہ کا طریق کیا ہے، وہ کون لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفت قابلِ الثّوبِ کو اپنے حسن عمل سے خدا تعالیٰ اور قرآن مجید کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جوش میں لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو توبہ قبول کرنے والا ہے ان لوگوں کیلئے تو بہ کے دروازے کھول دیتا ہے۔بہر حال ہمیں اس جگہ قرآن کریم کی ایک اندرونی خوبی کی طرف جو اس میں پائی جاتی ہے متوجہ کیا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ اگر تم تو بہ کرنا چاہو تو صرف یہی تمہیں ہدایت دے سکتی ہے کہ تو یہ کس طرح کی جاتی ہے اور کن راہوں سے اللہ تعالیٰ نے جو تو بہ کے دروازے رکھے ہیں ان کو کھولا جاسکتا ہے۔(۵) پانچویں صفت قرآن مجید کی یہاں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ قرآن مجید اس خدا نے نازل فرمایا ہے جو شَدِیدُ الْعِقَابِ ہے۔کہ جب وہ سزا دینے پر آتا ہے تو بہت سخت سزا دیتا ہے۔اس عزیز و قہار کے قہر اور غضب اور لعنت اور سزا اور عذاب سے اگر بچنا چاہو تو اس کا طریق بھی یہی کتاب تمہیں بتلائے گی۔کبھی تمہارے دل میں پہلوں کی مثال بیان کر کے خوف اور خشیت پیدا کرے گی تا تم اس کی طرف جھکو اور اس کے رحم کو جذب کرو۔سورۃ الحاقۃ میں مثلاً شَدِیدُ الْعِقَابِ کی قدرت کی ایک مثال بیان کی ہے تاکہ دلوں میں خوف پیدا ہو اور انسان خدا کی طرف پیٹھ کرنے اور اس سے پہلو تہی کرنے سے بچے۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں بیان فرمایا ہے کہ مود کی قوم ایک ایسے عذاب سے ہلاک کی گئی تھی جو