انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 189
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۱۸۹ سورة المؤمن بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المؤمن آیت ۴،۳ تَنْزِيلُ الْكِتَبِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَ قَابِلِ التَّوبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي القَولِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ مطلب یہ ہے ان آیات کا کہ اس کتاب کا نزول اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب ہے، کامل غلبہ اور کامل عزت اسی کو حاصل ہے۔وہ کامل علم والا ہے۔تمام علوم کا سر چشمہ اسی کی ذات ہے۔وہ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔خطا کا رانسان کی خطاؤں پر وہی مغفرت کی چادر ڈالتا ہے اور کمزور اور مائل به گناه انسان اُسی سے طاقت حاصل کر کے میلان گناہ کو دبانے اور نفس امارہ کو پوری طرح کچل دینے کی قوت پاتا ہے۔وہی رحیم و مہربان ہے۔جو محض اپنے فضل واحسان سے تو بہ کو قبول کرتا ہے اور بھٹکے ہوئے راہی کو جب وہ رجوع بمولی ہو معصومیت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے اور اس سے راضی ہو جاتا ہے۔وہی ہے جو اباء اور استکبار کرنے والوں کو اور انہیں جو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور شیطان کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں سخت سزا دیتا ہے اور اپنی قہری تجلی کے ساتھ ان کی اصلاح کے سامان پیدا کرتا ہے۔وہی ہے جو بہت ہی احسان کرنے والا ہے اور جس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔محبت اور پرستش کا وہی ہاں صرف وہی سزاوار ہے۔اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اسی سے اپنے کئے کی جزا پانا ہے۔اور بہتر اور احسن جزاو ہی پائیں گے جو اس کی تعلیم پر عمل کریں گے۔ان مختصری دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آٹھ اندرونی خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔(۱) پہلی خوبی اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے۔تَنْزِيلُ الكتبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ کہ یہ کتاب اس اللہ