انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 186 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 186

۱۸۶ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث محض اللہ بجالا ؤ پھر اگر بشر ہونے اور ایک کمزور مخلوق ہونے کی وجہ سے تمہارے اعمال میں کوئی کوتاہی رہ جائے تو ہم بڑے ہی بخشنے والے ہیں۔ہم تمہیں بخش دیں گے۔غرض اللہ تعالیٰ ہمیں مایوسی سے روکتا ہے اور اپنی رحمت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ہمیں اپنے فضل وکرم کی بڑی امید دلاتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اگر تم میرا قرب، میرا وصال اور میری رضاء چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ تم میرے کہنے کے مطابق اعمال بجالاتے رہو۔اور تمہاری ہمت اور کوشش یہی ہو۔تمہاری مخلصانہ نیت یہی ہو کہ تم جو نیک کام بھی کرو گے وہ اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے کرو گے اور اگر بوجہ بشر اور کمزور مخلوق ہونے کے تم سے غلطیاں سرزد ہوئیں۔تو میں ان غلطیوں کو معاف کر دوں گا اور معاف کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جب خدا تعالیٰ اس پر مہربان ہو گا اور اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مغفرت کی چادر اس کو اوڑھا دے گا۔تو وہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نیک انسان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔قرآن وحدیث میں ایک طریق کا ذکر آتا ہے کہ اس کے گناہوں اور نیکیوں کا موازنہ ہوگا۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ اچھے اور بُرے اعمال کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھا جائے گا بُرے اعمال اچھے اعمال کو کینسل (Cancel) کرتے جائیں گے یعنی ان کے اوپر خط تنسیخ کھینچتے چلے جائیں گے۔اگر آخر میں نیک عمل رہ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا۔لیکن اگر کسی کی بداعمالیاں اس کے نیک اعمال سے زیادہ ہوں گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کا مورد بن جائے گا۔لیکن جس شخص کے بُرے اعمال تھے تو زیادہ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مغفرت کی چادر ان پر ڈال دی اور وہ سب معاف کر دئے۔تو اس شخص کے صرف اچھے اعمال ہی باقی رہ گئے۔تو جتنا بدلہ ان اعمال کا الہی قانون کے مطابق مل سکتا ہے وہ اسے مل جائے گا۔پھر اس سے زائد بھی ملے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمت بے حد و حساب ہے۔میں نے عید کے خطبہ میں بتایا تھا کہ رحمت کے لفظ میں مغفرت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کو بھی معاف کر دے گا اور پھر اچھے اعمال کا اپنے قانون کے مطابق بدلہ بھی دے گا اور پھر اپنی رحمت کے نتیجہ میں اس کو زائد بھی دے گا۔اسی لئے تو اُخروی زندگی میں مومن کو ملنے والی جنت ابدی جنت بن جاتی ہے۔کیونکہ