انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 174
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۷۴ سورة الزمر خدا تعالیٰ کو کافی سمجھتا ہے۔اس تیسرے مفہوم کو لے کر یہ آیتیں آگے مضمون کو اٹھاتی ہیں۔فرمایا کہ جب نوع انسانی سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں تو انسان دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ایک وہ جو تسلیم کرتے ہیں اور اعتقا در کھتے ہیں اور ان کی روح کی یہ آواز ہوتی ہے کہ خدا ہی ہمارے لئے کافی ہے کسی اور چیز کی ہمیں ضرورت نہیں، مولا بس۔اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔کبھی وہ بتوں کی طرف جاتے ہیں کبھی وہ مال و دولت سے مرعوب ہوتے ہیں اور کبھی وہ خدا کو بھول کر ایک ایسے شخص کی طرف جھکتے ہیں جس کا اپنے علاقہ میں بڑا اثر اور اقتدار ہو وغیرہ وغیرہ۔وہ لوگ غیر اللہ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَه کا عملاً یہ جواب دیتے ہیں کہ نہیں، محض اللہ ہمارے لئے کافی نہیں بلکہ ماسوا اللہ کی بھی ہمیں ضرورت ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک گروہ ایسا ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ مجھے ماسوا اللہ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے اللہ ہی اللہ ہے اور اللہ ہی میرے لئے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ يُخَوَفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو کافی نہیں سمجھتے وہ تجھے ماسوا اللہ سے ڈراتے ہیں، ان کا خوف پیدا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی تعلق رکھو ورنہ تمہیں تکلیف ہوگی، ورنہ تمہیں نقصان پہنچے گا، ورنہ تمہیں پریشانی اٹھانی پڑے گی۔ان کے نزدیک محض اللہ کافی نہیں ہے۔وہ خوف دلاتے ہیں ان کا جو الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ہیں۔مِنْ دُونِهِ کے فقرے میں جو بت تراشے جاتے اور پوجے جاتے ہیں اور خدا کے شریک ٹھہرائے جاتے ہیں وہ بھی آجاتے ہیں اور اس کے اندروہ بھی آجاتے ہیں جو خدا کے شریک تو نہیں ٹھہرائے جاتے لیکن ان کو خدا کے علاوہ احتیاج پورا کرنے والا سمجھا جاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو ان کا محتاج سمجھتا ہے۔وَيُخَوفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ عملاً ایک ایسا گروہ ہے جو الیس اللهُ بِكَافٍ عَبدہ کے جواب میں کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں یہ کہتے ہیں کہ نہیں کافی نہیں اور نہ صرف یہ کہ وہ خود اس بات پر عمل کرنے والے ہیں وہ دوسروں کو بھی ڈراتے ہیں اور دھمکاتے ہیں اور تلقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف خدا نہیں بلکہ یہ چیزیں بھی ہیں کچھ ان کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ کہ وہ لوگ جو يُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِ کے مصداق ہیں وہ ضال ہیں، وہ صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں ، وہ دھتکارے ہوئے لوگ ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں دھتکارا جائے