انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 173
تفسیر حضرت علیله اسیح الثالث ۱۷۳ سورة الزمر اس میں آپ نے یہی بتایا تھا کہ آنے والا مہدی قرآنی تعلیم کی دلائل و براہین کے ذریعہ زبان سے ہی تصدیق نہیں کرے گا بلکہ اپنے عمل اور اس عمل کے نتیجہ کے طور پر معرض وجود میں آنے والے اپنے رفیع الشان مقام کے ذریعہ بھی اس کی صداقت کو دنیا پر آشکار کر دکھائے گا۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۲۷ تا ۱۲۹) قرآن عظیم کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آلیس الله بکاف عبده کہ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں کا مفہوم اور اس کے معنی بیان کئے۔پچھلے ایک خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ یہ انگوٹھی جو میں نے پہنی ہوئی ہے اور جس کے اوپر الیس الله بکاف عبده لکھا ہوا ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی ہے۔آپ کے والد کی وفات پر آپ کو الہام ہوا تھا کہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۲۰) اسی زمانہ میں جس پر ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے آپ نے یہ نگینہ بنوایا اور اس پر یہ عبارت لکھوائی اور یہ انگوٹھی تیار کروائی۔اب یہ انگوٹھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت راشدہ احمدیہ کو دے دی ہے، بجائے اس کے کہ اسے اپنے خاندان میں رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس الہام کے بعد میں نے ان گنت بار اللہ تعالیٰ کے نشان ، جو اس وعدہ کو پورا کرنے والے تھے ، اپنی زندگی میں دیکھے جو وعدے اس فقرے کے اندر مضمر ہیں ان آیات میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدہی میں تین مفہوم پائے جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ یہ سوال ہے۔سوال کے طور پر پوچھا گیا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ؟ پھر بہت سے سوال ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں باوجود اس کے کہ فقرہ سوالیہ ہوتا ہے ایک بنیادی حقیقت کا بیان بھی ہوتا ہے مثلاً روز مرہ دنیا میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر کسی باپ کا بیٹا اس کا کہنا نہ مانتا ہو اور وہ اس کو اپنا حق ، جو باپ کا بیٹے پر ہوتا ہے یاد دلانا چاہے تو کہتا ہے کہ کیا میں تمہارا باپ نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ یہ پوچھتا ہے کہ بتاؤ تم میرے بیٹے ہو یا نہیں بلکہ مطلب حقیقت بیان کرنا ہوتا ہے اور سوالیہ فقرے میں اس حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے اس کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔میں نے ایک موٹی سی مثال دے دی ہے تا کہ ہمارے بچے اور نوجوان بھی سمجھ لیں۔تیسرے یہ فقرہ جواب کا مطالبہ کرتا ہے۔ہر سوال جواب کا مطالبہ کرتا ہے۔چنانچہ جب پوچھا گیا ہے تو مخاطب کو بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافی تو ہے مگر کیا وہ بھی واقعی