انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 172
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۱۷۲ سورة الزمر اپنے بندوں کے لئے کافی ہے۔اسلئے انہیں ہر طرف سے منہ موڑ کر اسی پر توکل کرنا چاہیے اور صحیح معنوں میں اُسی کا ہوکر رہنا چاہیے۔(۴) باقی رہے خدا تعالیٰ کے علاوہ دوسرے وجود جن سے بالعموم ڈرایا اور جن کا خوف دلایا جاتا ہے ان کا حلقہ اقتدار بہت محدود اور عارضی ہے۔ان سے کوئی توقع رکھنا اور ان پر بھروسہ کرنا محض بے کار ہے، خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انہیں کوئی قدرت اور طاقت حاصل نہیں ہے تھوڑا بہت اقتدار رکھنے کے باوجود وہ خود محتاج ہیں، وہ کسی کو کیا دے سکتے اور کسی کی کیا مدد کر سکتے ہیں، اجر بے حساب کا دینے والا صرف خدا ہے جو ہر شے کا خالق و مالک اور قادر مطلق ہے۔(۵) جس کو اللہ تعالی گمراہ قرار دے دنیا کی کوئی طاقت یا فتویٰ اسے ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتا۔اسی طرح جو خدا کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہے دنیا کی کوئی طاقت یا کوئی فتویٰ اسے ہدایت سے محروم نہیں کر سکتا اور نہ دنیا کی کوئی طاقت یا فتویٰ ایسے ہدایت یافتہ کو افضال وانعامات کا وارث بنانے سے خدا تعالیٰ کو باز رکھ سکتا ہے۔دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو اس بات سے روک دے کہ وہ اپنے ہدایت یافتہ بندوں سے پیار نہ کرے اور انہیں اپنے افضال و انعامات کا مورد نہ بنائے۔(1) اللہ تعالیٰ غالب ہے اور بدلہ لینے پر قادر ہے۔اس لئے وہ اپنے ہدایت یافتہ حقیقی بندوں کو اپنی تائید و نصرت کا مورد بنا کر ان کے ذریعہ حق کو غلبہ عطا کرتا ہے۔برخلاف اس کے وہ اطاعت سے نکلنے والوں ، نافرمانوں اور ظلم کو اپنا شیوہ بنانے والوں پر اپنا قہر نازل کرتا ہے۔ان آیات میں جس سچی تعلیم اور اس کو لانے والے وجود باجود کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے مراد قرآن مجید کی سچی اور تا ابد قائم رہنے والی ہر لحاظ سے کامل ومکمل تعلیم ہے اور ظاہر ہے کہ اس کو لانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور جہاں تک اس کامل و مکمل اور تا قیامت قائم و دائم رہنے والی تعلیم کی تصدیق کا تعلق ہے تو اس سے مراد محض زبانی تصدیق ہی نہیں ہے بلکہ عربی لغت اور قرآنی محاورہ کی رُو سے تصدیق کے معنے اس تعلیم پر صدق دل سے مخلصانہ عمل کرنے کے بھی ہیں۔اس میں زبانی تصدیق اور عملی تصدیق دونوں شامل ہیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری زمانہ میں احیا و غلبہ اسلام کی غرض سے مہدی علیہ السلام کے مبعوث ہونے کی بشارت دی تو