انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 171
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة الزمر مسلمان نہیں وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش نہیں کرتا۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۷۰،۴۶۹) وو آیت ۳۴ تا ۳۹ وَ الَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَيكَ هُمُ الْمُتَتَّقُونَ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۖ ذَلِكَ جَزْوُا الْمُحْسِنِينَ لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ اَسْوَا الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مضِلّ اليْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِي انْتِقَامٍ وَلَبِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَ اللهُ قُلْ اَفَرَعَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ اِنْ ، ارَادَنِي اللهُ بِضُرّ هَلْ هُنَّ كَشِفْتُ ضُرَّةٍ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ ود b مُسِلَتْ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكَّلُونَ۔ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور غلبہ حق سے متعلق بعض نہایت اہم امور ذہن نشین کرائے گئے ہیں جو علی الترتیب یہ ہیں۔(۱) جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے سچی تعلیم لائے اور وہ شخص جو ایسی تعلیم کی تصدیق کرے ایسے لوگ متقی ہونے کے باعث خدا تعالیٰ کی پناہ میں ہوتے ہیں۔(۲) ایسے لوگ جو کچھ چاہیں گے انہیں وہ سب کچھ اپنے رب کی جناب سے ملے گا اور وہ چاہیں گے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے برے پہلوؤں کو ڈھانک دے اور ان کا بدلہ بھی ان کے اعمال میں سے جو سب سے اچھے اعمال ہوں ان کے مطابق انہیں دے چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کی جزا بھی ان کے سب سے بڑے اور سب سے اچھے عمل کی جزا کے مطابق دے گا۔(۳) ظاہر ہے ایسا رحمن و رحیم اور ارحم الراحمین خدا جو سب دینے والوں سے بڑھ کر دینے والا ہے