انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 170
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث 12۔سورة الزمر مضامین اس کے اندر پائے جاتے ہیں جو پہلی کتب سماوی میں نہیں پائے جاتے تھے اور اس کامل اور مکمل کتاب کے نزول کی ایک غرض یہ ہے کہ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وہ لوگ جو اپنی فطری خشیت اللہ سے کام لیتے ہیں وہ حقیقی معنی میں قرآن کریم کے فیوض اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے گداز دل بن جائیں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے اور بنی نوع کی ہمدردی سے گداز ہو جائیں۔فرما یا ذلِكَ هُدَی اللہ یہ قرآن کریم کی ہدایت ہے لیکن کوئی شخص اپنے زور سے اسے حاصل نہیں کر سکتا يَهْدِى بِه مَنْ يَشَاءُ دعا کرو کہ اس حسین ہدایت کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حاصل کرنے والے بن جاؤ اور اس کی برکتوں سے حصہ لینے والے بن جاؤ۔قرآن کریم کی ہر آیت اپنے اندر بڑے وسیع معانی رکھتی ہے لیکن اس وقت میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس لئے بھی ہے کہ دلوں کو گداز کیا جائے اور فطرت انسانی کے اندر جو خشیت اللہ کا جذبہ رکھا گیا ہے اس کی ترقی اور ارتقا کے سامان پیدا کئے جائیں۔جس طرح آنکھ بغیر بیرونی روشنی کے دیکھ نہیں سکتی۔جس طرح عقل بغیر انوار آسمانی کے ناقص رہ جاتی ہے اور وہ اپنے کمال کو حاصل نہیں کر سکتی اسی طرح دل بھی وہی دل ( قلب سلیم) ہے کہ جو قرآنی برکات سے اللہ تعالیٰ کی خشیت اس رنگ میں اپنے اندر رکھتا ہو جس رنگ میں کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ خشیت اللہ سے کام لے۔سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَالهُم الهُ وَاحِدٌ فَلَةٌ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الحج: ۳۶،۳۵) یعنی تمہارا خدا اور معبود خدائے واحد و یگانہ ہے اس لئے (آسلموا ) اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دو اور اس کے حضور اس طرح اپنی گردن کو جھکا دو جس طرح ایک بکرا قصاب کی چھری کے سامنے مجبور ہو کر اپنی گردن جھکا دیتا ہے۔تم طوعاً اور بشاشت کے ساتھ اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے والے بن جاؤ۔وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْن اور ہم اس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان لوگوں کو اپنے انعامات کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وہ کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو اس کا دل کانپ اُٹھتا ہے اس کا دل گداز ہو جاتا ہے جس کا دل صحیح معنی میں اور حقیقی طور پر گداز نہیں وہ محبت اور عاجزی کرنے والا نہیں بن سکتا اور جو عاجز نہیں جو محبت نہیں وہ اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا اور جو