انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 165

۱۶۵ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث تذلل اسی وقت نفس انسانی میں پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات اور اس کی عظمت کا عرفان ہو۔اس کے بغیر تذلل اختیار نہیں کیا جا سکتا۔در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اس قدر عظمت اور جلال ہے کہ جب لوگ ان صفات کو پہچاننے لگتے ہیں تو اُن کا سر پھر بامر مجبوری ہی اٹھتا ہے ورنہ جھکا ہی رہتا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے (اس وقت مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ گھوڑے پر سوار تھے یا اونٹنی پر ) اور آپ دعا میں لگے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کا سر جھکنا شروع ہوا یہاں تک کہ کاٹھی کے ساتھ لگ گیا۔اور اس سے نیچے تو جاہی نہیں سکتا تھا۔پس یہ ہے غایت تذلل یعنی انتہائی فروتنی اور اس کا ظاہری کمال۔آپ کا سر کاٹھی کے ساتھ لگ گیا۔اس سے نیچے جاہی نہیں سکتا تھا۔اور یہ اتنا تذلیل اور فروتنی ہے جس سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے یہ قلبی ، روحانی اور ذہنی کیفیت پیدا ہو ہی نہیں سکتی جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے نہ دیکھے۔اور اللہ تعالیٰ کی عظیم جلالی صفات کی معرفت نہ رکھتا ہو۔اسی لئے فرمایا وو يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ جو لوگ اپنے رب کی خشیت رکھتے ہیں یعنی اس کی عظمت کو دیکھ کر اس کے سامنے تذلل اختیار کرتے ہیں ان کو قرآن کریم کی تعلیم اس رنگ میں اور اس طور پر متاثر کرتی ہے کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اگر کسی آدمی کے سامنے یکدم جنگل میں مثلاً شیر آ جائے یا کسی اور چیز سے وہ ڈر جائے ( اور عام زندگی میں بھی کئی دفعہ ہر انسان کو ایسا تجربہ ضرور ہوتا ہے ) تو ایک سنسنی سی پیدا ہوتی ہے۔اور انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جسم میں خوف کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔تقشعر کے یہی معنے ہیں یعنی خوف کے مارے جسم میں لہر دوڑنے اور سنسنی پیدا ہونے کے معنوں میں تَقْشَعِر کا لفظ استعمال ہوتا۔تا ہے۔پس ہمارے رب کے مقابلے میں شیر کی کیا حیثیت ہے یا اگر پہاڑ کی بلند چٹانیں ہوں اور ان کے نیچے آپ کھڑے ہوں تو آپ کا دماغ چکرا جاتا ہے اس کی تھوڑی سی بلندی دیکھ کر تو اللہ تعالیٰ کی بلندی اور اس کی رفعت اور اس کی عظمت کا تو انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ تو نہ ختم ہونے والی صفات ہیں۔غرض جیسا کہ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے ہمیں اپنے اندر خشیت یعنی تذلل پیدا کرنا چاہیے۔