انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 160

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۶۰ سورة الزمر چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاحیت اور استعداد نوع انسانی میں سب سے بڑی تھی اور چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت سے اپنی استعداد اور صلاحیت کو سب سے زیادہ نشو نما دینے میں کامیابی حاصل کی اس لئے آپ سب سے بلند مقام پر چلے گئے لیکن اسوہ حسنہ کی پیروی اس بات میں یہ نہیں کہ ہم اس مقام تک پہنچیں جہاں تک ہم پہنچ ہی نہیں سکتے متضاد ہو جاتا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کریم کی نگاہ میں جو مقام پایا اس مقام تک کوئی اور انسان نہیں پہنچ سکتا لیکن اس معنی میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری قوتوں اور استعدادوں اور صلاحیتوں کی کامل نشوونما کی اور یہ قو تیں اور استعدادیں اور صلاحیتیں انسانوں میں سب سے بڑی تھیں۔اس لئے اسوہ یہ بنے گا کہ جہاں تک اس معاملہ کا تعلق ہے ہر انسان یہ کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی قوت اور صلاحیت اس کو دی ہے اس دائرہ استعداد میں وہ جتنا اونچا جاسکتا ہے وہ جائے اور کسی کوتا ہی اور غفلت کے نتیجہ میں وہ ایسا نہ ہو کہ جس مقام پر اللہ تعالیٰ کی عطا اسے پہنچانا چاہتی تھی اس مقام سے وہ نیچے گرار ہے۔پھر یہ کئی آیات ہیں اسی ترتیب سے میں ان کو لے رہا ہوں۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيم کہہ کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ اعلان کیا اور ہر مخلص مسلم کو بھی یہ اعلان کرنا چاہیے کہ ہمارا رب کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کرو۔اس طرح پر کہ اطاعت اس کے لئے خالص ہو جائے اور اسلام کے سب حکموں کی پیروی کرو۔وہ ایک ہی راستہ خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف جو لے جانے والا ہے یعنی دینِ اسلام، اس پر گامزن رہو۔تو یہاں یہ فرمایا کہ اگر میں نافرمانی کروں اور اس راہ کو چھوڑ دوں اور اس کی بجائے دیگر راہوں کی تلاش میں لگارہوں یا دیگر راہوں پر گامزن ہو جاؤں۔تو وہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی نہیں ہوں گی۔اني أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ میں یہ ڈرتا ہوں کہ اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ بڑے دن کے عذاب میں مجھے مبتلا کرے گا۔ہر مومن، مسلم کے دل میں یہ خوف یہ خشیت موجود رہنی چاہیے۔