انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 7
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الروم بھاگنے کی ضرورت نہیں۔گو اس میں اور بھی بہت حکمتیں تھیں لیکن ایک یہ حکمت بھی تھی کہ انہیں میدان جنگ سے بھاگنے کی ضرورت نہیں چنانچہ ان دونوں کی آپس کی جنگ میں کئی لاکھ کا مقابلہ کئی لاکھ کی فوجوں سے ہوا۔بعد میں جب ان کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی ہے تو میرا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کی مجموعی طور پر کوئی آٹھ لاکھ فوج بنتی تھی۔حالانکہ مسلمانوں کی یرموک کے میدان میں قیصر کی فوج سے لڑنے والی صرف ۳۰/۴۰ ہزار فوج تھی۔بعض لوگوں نے یہ تعدادزیادہ بھی بتائی ہے لیکن عام طور پر تاریخ دان ۴۰ ہزار فوج بتاتے ہیں ان کے مقابلے میں قیصر کی کئی لاکھ فوج تھی۔ایک اندازہ کے مطابق تین لاکھ فوج تھی جس کے ساتھ مسلمانوں نے مقابلہ کیا اور بالآخران پر فتح پائی۔پہلے بھی میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ حضرت خالد بن ولید جب تک کسری کے مظالم کا مقابلہ کرتے رہے اُن کے پاس غالباً چودہ ہزار فوج تھی۔اُنہوں نے کسری کے خلاف سات آٹھ لڑائیاں لڑی ہیں۔ہر لڑائی میں کسری ساٹھ ستر ہزار تازہ دم فوج بھیجتا تھا۔علاوہ ازیں جو پہلی لڑائیوں کے بچے کھچے لوگ ہوتے تھے وہ بھی اُن میں شامل ہو جاتے تھے ان کو تو چھوڑو۔وہ تو پہلے لڑ چکے ہوئے تھے۔چنانچہ ان چودہ ہزار مسلمانوں نے مجموعی طور پر قریباً پانچ لاکھ فوج کا مقابلہ کیا ہے کسریٰ کی تازہ دم فوجیں آتی رہیں اور مسلمانوں کی وہی فوج جو پہلے لڑتی چلی آ رہی تھی۔اس میں سے بھی بعض زخمی ہو گئے۔کچھ شہید بھی ہو گئے۔اس سارے عرصہ میں مسلمانوں کو صرف ایک آدمی کی کمک پہنچی تھی۔چنانچہ حضرت خالد بن ولید نے شروع میں جب کمک مانگی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ تم چلے جاؤ۔خالد کو مدد کی ضرورت ہے۔اس پر مدینے والے حیران بھی ہوئے تھے اس کی تفصیل میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں۔پس اسلام کے چوتھے دور میں ایک طرف کسری سے جنگ ہو رہی تھی تو دوسری طرف قیصر سے جنگ ہو رہی تھی وہ مسلمانوں پر بد نیتی سے حملہ آور ہوئے تھے وہ اسلام کو مٹادینا چاہتے تھے۔اُن کا خون کھول رہا تھا کہ کل تک جنہیں ہم بدو سمجھتے تھے وہ آج ہمارے حاکم بننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اس لئے وہ بڑے غصہ میں آتے تھے۔یہ نہیں کہ اُنہوں نے اسے کھیل سمجھا تھا حملہ کرنے آگئے تھے۔وہ بڑی جانبازی سے لڑتے تھے۔وہ بڑی بہادر قومیں تھیں اور بڑی تجربہ کار بھی تھیں۔چنانچہ اُن کے بعض ایسے جرنیل بھی تھے جنہوں نے کئی کئی لڑائیوں میں شاندار فتح حاصل کی ہوئی تھی، اُن