انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 159

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۵۹ سورة الزمر نہیں ، کوئی ایسی ہدایت جو قرآن کریم سے متضاد ہو یا اس سے مخالف ہو یا اس سے مختلف ہوا ایسی نہیں جو انسان کو ان راہوں کی طرف ہدایت دے سکے جو راہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں۔اس اعتقاد پر ہم احمدی کھڑے کئے گئے ہیں اور اس اعتقاد پر ہم احمدی قائم ہیں کہ إِنَّ الدِّين عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ زمر میں فرماتا ہے۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ - قرآن کریم کا ہر حکم ایسا ہے کہ جس کے پہلے مخاطب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور چونکہ ہمیں آپ کے اسوہ کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔اس لئے مسلمان جو ہیں، جہاں بھی ہیں، جب بھی تھے، جب بھی ہوں گے۔ہر مسلمان جو ہے اس کو ہر حکم مخاطب کرتا ہے کہ ” تو کہہ دے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ائی اُمرت کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں۔اس آیت میں دو چیز میں واضح طور پر بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے۔دوسرے یہ کہ عبادت کے معنی اسلام میں بڑے وسیع ہیں۔عبادت کے معنی یہ ہیں مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ کہ اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں یعنی قرآن کریم کے ہر حکم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوئی۔قرآن کریم کہتا ہے مثلاً کسی پر بدظنی نہ کرو یہ حکم ہے اللہ تعالیٰ کا جو شخص بدظنی اس لئے نہیں کرتا اس نیت کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے شرط بن گئی۔وَأُمِرْتُ لأن أكونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ اور مجھے صرف یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں بلکہ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے دائرہ استعداد میں جو شرف اور مرتبہ اسلام انسان کے لئے لے کر آیا اپنے دائرہ استعداد میں آگے سے آگے بڑھتا چلا جاؤں اور ایک ارفع مسلمین مقام کو حاصل کروں۔سب سے ارفع مقام تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور م کے آپ خاتم ہیں اور آپ ہی حقیقی معنی میں اَولَ المُسلِمِينَ ہیں اس کے معنی پہلوں نے بھی یہی کئے ہیں کہ زمانہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ شرف اور مرتبہ اور مقام کے لحاظ سے اسلام میں اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الإسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رفعت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نہیں ہوئی تو فرمایا: - وَأُمِرْتُ لأن أكونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے بڑا فرمانبردار بنوں۔