انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 158
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۵۸ سورة الزمر ستر یا پچاس یا پچھپیں یا نہیں یا دس فیصد طاقت ملی ہو تو وہ اپنے اسی دائر ہ استعداد میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچائے۔پس قرآن کریم نے اصولی طور پر جو پہلی چیز بتائی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی قوتوں اور طاقتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق کمال تک پہنچایا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقتیں سب سے زیادہ تھیں۔آپ کا دائرہ استعداد ایک کامل دائرہ استعداد تھا۔آپ نے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی طاقتوں کو کمال تک پہنچایا۔اسی طرح آپ کے اُسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی قوتوں کو ان کے کمال تک پہنچائے اور یہی وہ تعلیم ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اُسوہ حسنہ ہیں۔اب کسی کا دوسرے شخص سے یہ کہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ تو میرے جتنی نمازیں نہیں پڑھتا یا نوافل نہیں پڑھتا اس لئے تو جہنم میں جائے گا۔کوئی شخص دوسرے سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو میرے جتنے روزے نہیں رکھتا اس لئے تو جہنم میں جائے گا۔کوئی شخص کسی سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو میرے جتنی زکوۃ نہیں دیتا اس لئے تو جہنم میں جائے گا۔جس شخص کو خدا نے پیسے ہی نہیں دیئے وہ زکوۃ کیسے دے گا۔جس شخص کی فطرت میں کثرت نوافل کی استعداد ہی نہیں رکھی گئی اس کے حصہ میں نوافل کی کثرت نہیں۔خدا تعالیٰ نے اس نکتہ کے سمجھانے کے لئے ہمیں فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے اپنے دائرہ استعداد کے مطابق اپنی قوتوں اور طاقتوں کو کمال نشود نما تک پہنچاؤ گے تو تمہارے حالات کے مطابق جنت کا ایک نہ ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ظاہر ہے کہ ہر ایک آدمی کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ہر ایک کی دلی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ہر ایک آدمی کا مجاہدہ مختلف ہوتا ہے۔اسی طرح ہر ایک کی استعدادیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔اس لئے لازماً ہر ایک کا دائرہ استعداد اور اس کا کمال بھی مختلف ہوتا ہے۔چنانچہ خدا نے فرمایا میں نے تمہارے لئے جنت کے آٹھ دروازے بنادیئے ہیں۔تم اپنی استعداد اور اس کی نشوونما کے مطابق جس دروازے کو پسند کرو اس میں سے داخل ہو جاؤ۔(خطابات ناصر جلد اول صفحہ ۵۷۶ تا ۵۷۹) ان الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ۲۰) بعثتِ نبوی کے بعد (صلی اللہ علیہ وسلم ) دین تو اب ایک ہی رہ گیا جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کہہ کر اس آیت میں پکارا ہے اور کوئی اس کے علاوہ دین