انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 157
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۵۷ سورة الزمر ہے کہ جو صراط مستقیم بنائی گئی ہے۔اُس پر چلوں۔ملت ابراھیم کو اختیار کروں اور میری نماز اور میری عبادت ، میری زندگی اور میری موت خدا تعالیٰ کے جلال اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے وقف ہو اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قائم کرنا میری زندگی کا مقصد ہو اور پھر فرما یاد بذلك أمرت یعنی ان قوتوں کی نشو نما کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔گویا اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آنحضرت کو جسمانی اور علمی اور اخلاقی اور روحانی قوتیں عطا ہوئی تھیں وہ آپ کی ذات میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی تھی کہ آپ اپنی خدا داد قوتوں کی نشو ونما کو ان کے کمال تک پہنچا دیں۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی معنی میں اول المسلمین ہونا بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ کے مترادف ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عبادات کیسے کریں۔ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے میں کہتا ہوں تمہیں کسی نے یہ کب کہا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی اپنی زندگی گزارو۔وہ طاقتیں تم میں ہیں ہی نہیں۔ان طاقتوں کی تم نشو نما تمام کر ہی نہیں سکتے لیکن اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر چہ یہ تو صیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ کی طاقتیں عطا فرمائی تھیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی تھیں آپ نے اپنی پوری توجہ اور انہماک اور ہر قسم کی قربانی کر کے اور ایثار دکھا کر اُن طاقتوں اور استعدادوں کو اُن کے کمال تک پہنچا دیا تھا۔اس لئے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اُس اسوۂ نبوی کے مطابق اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی اپنی طاقتوں اور استعدادوں کو ان کے کمال تک پہنچائے۔گواؤل المسلمین کے اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔آن أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِینَ کے لحاظ سے اسوہ نہیں کیونکہ اس میں تو سب سے آگے نکلنا مراد ہے اور سب سے آگے ایک ہی نکلا کرتا ہے اور جس نے آگے نکلنا تھا وہ نکل گیا لیکن اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو بھی اور قو تیں دیں ان قوتوں کو آپ نے اپنے دائرہ استعداد میں (دائرہ استعداد سے مراد شریعت کا کمال ہے۔) اپنے کمال کو پہنچا دیا۔اس لئے ہر شخص کو کہا گیا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں سو کی بجائے ۹۰ فیصد طاقت ملی ہو تو وہ اپنے اس دائرہ استعداد میں اسے کمال تک پہنچائے۔اگر کسی کواشی یا