انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 156
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۵۶ سورة الزمر ایسا آیا اور نہ آ سکتا تھا جو فرمانبرداری کے مقام میں آپ سے بڑا ہوتا۔آپ سب سے بڑے فرمانبردار ہیں۔اس معنی میں اول المسلمین کہا گیا ہے کیونکہ یہاں آنحضرت کی زبانِ مبارک سے کہلوایا گیا ہے کہ مجھے خدائے واحد و یگانہ اور رب کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اول المسلمین بن جاؤں اور کسی سے پیچھے نہ رہوں۔بلکہ سب کو پیچھے چھوڑ دوں اور خود آگے نکل جاؤں۔پس اول المسلمین کے اس معنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوہ نہیں بن سکتے۔کیونکہ وہ تو ایک ہی تھا جو آگے نکل سکتا ہے۔سب سے آگے دو نہیں نکل سکتے۔یا تین نہیں نکل سکتے بلکہ ایک ہی ہوتا ہے۔جو سب سے آگے نکلتا ہے۔پس سورۃ زُمر میں جو مضمون بیان ہوا ہے۔اس میں آپ کی ایک بلندشان بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ قرب الہی کے حصول میں آپ ساری مخلوقات میں سے آگے نکل گئے۔حتی کہ انبیاء کو بھی ذاتی جو ہر کے لحاظ سے بھی اور ظاہری خدمات کے لحاظ سے بھی اپنے پیچھے چھوڑ دیا۔دوسری جگہ اول المسلمین ایک دوسرے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ انعام میں فرماتا ہے کہ اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی کی یعنی اُس نے مجھے وہ راہ بتائی ہے جس پر چل کر خداداد قوتوں اور استعدادوں کو کامل نشو و نما ملتی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمونہ بیان کر کے بتایا کہ اگر قوتوں کی صحیح نشو نما کرنا مقصود ہو تو شرک کا کوئی شائبہ انسانی زندگی، انسانی کوشش اور انسانی محنت میں نہیں ہونا چاہیے۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کچھ تو خدا کی طرف جھک جائے اور کچھ غیر اللہ کی طرف جھک جائے تو نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول! تو کہہ دے! إِنَّ صلاتي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔میری نماز اور میری دعائیں جن سے میں اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرتا اور طاقت پاتا ہوں اور میری عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر کرنے والی اور اس کے بندوں کو آرام پہنچانے کے لئے ہے۔لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اس میں اللہ کے لفظ میں خدا کے جلال کو ظاہر کرنے کی طرف اشارہ ہے اور رب العالمین میں بندوں کی خدمت کی طرف اشارہ ہے۔یہاں یہی نہیں فرما یا لا شَرِيكَ لَه بلکہ یہ بھی فرما یا وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا