انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 155

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۵۵ سورة الزمر میں اور اپنی رحیم ہونے کی صفت کے نتیجہ میں میرے ناقص اعمال کو قبول کر لیا ہے اور وہ مجھ سے محبت کرنے لگ گیا ہے۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۳ تا ۶ ) آیت ۱۲ تا ۱۶ قُلْ إِنّى أُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ) وأمرتُ لأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ قُلِ اللهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي فَاعْبُدُوا مَا ستُم مِنْ دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِم يَوْمَ الْقِيمَةِ اَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ۔قرآن کریم نے ایک بنیادی اصول جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے اسوہ حسنہ ہیں وہ آپ کا اول المسلمین ہونا بیان کیا ہے۔قرآن کریم میں آپ کے متعلق اول المسلمین کے الفاظ دو مختلف جگہوں پر مختلف مضامین کے ضمن میں استعمال ہوئے ہیں۔ایک تو سورہ زمر کی ان آیات میں بیان ہوا ہے۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ - وَاُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ - که مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اطاعت صرف اُسی کے لئے مخصوص کر دوں اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں اول المسلمین یعنی سب میں سے بڑا فرمانبردار ہوں۔اس آیت کریمہ کے معنے سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بعض دوسری آیات سامنے لانی پڑیں گی۔اس وقت میں ایک ہی آیت کولوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ( النساء : ۱۱۴ ) تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا ذاتی جوہر میں بھی اور ظاہری خدمات کی رو سے بھی۔غرض یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ساری مخلوقات میں سے اول المسلمین یعنی اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے فرمانبردار ہیں اور اس مضمون کی وضاحت کرنے کے لئے وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيماً میں اشارہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے اس کا مطلب کہ کوئی نبی نہ