انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 154
۱۵۴ سورة الزمر تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث قبول کرلوں گا۔میں انہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ میں ان کے اعمال کو ان کے لئے عید بنادوں گا اور ان سے میرا سلوک ان لوگوں سے مختلف ہو گا جو سرکشی کرنے والے ہیں۔فخر و مباہات کرنے والے ہیں اور کبر وغرور کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول ! تم میری طرف سے اعلان کر دو۔هَلُ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔وہ لوگ جو اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ان کے اعمال ان خوبیوں کے حامل نہیں کہ وہ ان کے نتیجہ میں ضرور جنت میں داخل ہو جائیں گے بلکہ ان کے جنت میں داخل ہونے کے لئے محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔ان لوگوں کے برابر نہیں جو اس حقیقی اور بنیادی نکتہ کو نہیں سمجھتے۔وہ تھوڑے سے اعمال بجالاتے ہیں اور پھر اس فخر اور غرور میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہم نے بہت نیکیاں کرلی ہیں۔اب اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور جنت دے دے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر میں وہی شخص مقبول ہوتا ہے جو نیک اعمال بجالانے کے بعد بھی ڈرتا رہتا ہے کہ اس کے نیک اعمال خدا تعالیٰ کی درگاہ سے رڈ نہ ہوں اور ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتا ہے کہ خدا تعالی بڑا رحیم ہے وہ اس کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔وہ اس کی کمزوریوں کو دور کر دے گا اور محض اپنے فضل اور احسان سے اسے اپنے قرب اور رضا کے مقام تک پہنچا دے گا۔پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز جس کا تعلق اعمال صالحہ سے ہے وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔اس لئے کسی مرحلہ پر بھی انسان کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس میں کوئی ایسی خوبی تھی کہ اس نے ایسے نیک عمل کئے۔مثلاً جس وقت کسی انسان کے دل میں کسی عمل کی خواہش پیدا ہو تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کے اندر کوئی ذاتی نیکی تھی جس کی وجہ سے اس کے دل میں اس نیک عمل کی خواہش پیدا ہوئی۔پھر جب وہ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی نیت کرے تو اسے یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ اس کے اندر کوئی خوبی تھی جس کی وجہ سے وہ اس نیک خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو گیا بلکہ وہ یہ مجھے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کی خواہش نیت میں بدل گئی اور جب یہ نیت عمل کی شکل میں تبدیل ہو تب بھی وہ یہ سمجھے کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے اپنی نیت کے مطابق اس نیک عمل کو بجالانے کی توفیق ملی۔پھر جب وہ عمل قبول ہو جائے تو وہ یہی سمجھے کہ اس کے اندر تو کوئی خوبی نہیں تھی اس کے عمل میں ہزاروں رخنے تھے لیکن اللہ تعالیٰ بڑا احسان کرنے والا ہے۔بڑا فضل کرنے والا ہے اور بڑی مغفرت کرنے والا ہے۔اس نے اپنی غفار ہونے کی صفت کے نتیجہ