انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 153
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۵۳ سورة الزمر آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔وہ نافرمان کی طرح ہوسکتا ہے؟ تو کہہ دے کیا علم والے لوگ اور جاہل برا بر ہو سکتے ہیں۔نصیحت تو صرف عقلمند لوگ حاصل کیا کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دی ہے کہ اس کی نگاہ میں وہ لوگ جو رات کے اوقات میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے عاجزی سے اپنی اطاعت خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں وہ اس کی نگاہ میں بڑا درجہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہاں مومن کی عبادت کے قبول ہونے سے پہلے کی حالت کو بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ دن کو بھی عبادت کرتا ہے اور روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام بھی کرتا ہے يَحْذَرُ الأخرة۔اس کے باوجود وہ اس بات سے ڈرتا رہتا ہے کہ کیا اس کا انجام بخیر ہوگا یا نہیں۔کیا خدا تعالیٰ اس کی عبادت کو قبول بھی کرے گا یا نہیں کیونکہ بعض مخفی گناہ لغزشیں اور کوتاہیاں ایسی ہیں جو اس کے اعمال کو اس طرح بگاڑ دیتی ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قابل قبول نہیں رہتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن دن کو بھی عبادت کرتا ہے اور رات کو بھی قیام کرتا ہے اور تنہائی اور خاموشی میں خدا تعالیٰ کے حضور عجز اور اعتراف کرتا ہے اور اس سے اطاعت کا عہد باندھتا ہے لیکن با وجود اس قدر عبادت بجالانے کے اسے ان اعمال کے بجالانے پر کوئی فخر نہیں ہوتا اور اسے اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ان اعمال کو ضرور قبول کرے گا۔آخرت کے معنی بعد میں آنے والی چیز کے ہوتے ہیں اور کسی نیک عمل کے بعد آنے والی چیز اس کی قبولیت اور نیک انجام ہوتا ہے يَحْذَرُ الأخرة مؤمن نیک اعمال بجالانے کے بعد بھی ڈرتا رہتا ہے کہ آیا خدا انہیں قبول بھی کرتا ہے یا نہیں؟ کہیں ان میں ایسے نقائص تو نہیں رہ گئے جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی درگاہ سے رد کر دیئے جائیں اور پھر وہ اس ڈر کے باوجود یہ امید بھی رکھتا ہے کہ خدائے رحیم اس کی کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر اپنا فضل اور احسان کرے گا ، اس کی مغفرت کرے گا اور اس کی کمزوریوں کو ڈھانپ دے گا۔مغفرت اور احسان دونوں معنے رحمت میں پائے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَرْجُوا رَحْمَةً رَبَّه - مومن بندہ امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی کوتاہیوں کو مغفرت کی چادر سے ڈھانپ دے گا اور محض اپنے فضل سے اس کی عبادت کو قبول کر لے گا۔فرماتا ہے کہ ایسے بندے جو دن رات خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور پھر اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل قبول ہوتا ہے یا نہیں۔اور پھر وہ میری رحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ میں اپنے فضل سے ان کے اعمال