انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 152
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۵۲ سورة الزمر ہو رہے ہیں اس لئے کوئی چیز بھی ایسی نہیں اس مادی دنیا میں کہ جس کے خواص غیر محدود نہ ہوں۔اور جواب نئی تحقیق شروع ہوئی ہے ایک جگہ آکے ٹھہر جاتی ہے۔ایک نسل کی ، پہلے بھی میں نے مثال دی ہے بڑی واضح ہے اس لئے میں دہراتا رہتا ہوں۔ایک وقت میں ایک نسل نے کہا افیم میں چودہ ست ہیں۔اگلی نسل نے کہا افیم میں اٹھائیس ست ہیں۔اس سے اگلی نسل نے کہا افیم میں چوالیس ست ہیں اور اسی طرح وہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا نوع انسانی قیامت تک کوشش کرتی ہے خشخش کے ایک ذرے کے جو خواص ہیں وہ ان پر حاوی نہیں ہوسکتی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۰۹ تا ۴۱۶) غرض انسان کے ہر نیک عمل میں اس کے لئے چار عید میں پوشیدہ ہیں اور وہ چار دفعہ اللہ تعالیٰ کے افضال اور احسانوں کو یاد کر کے خوش ہوتا ہے اور یہ جو دو عید میں اللہ تعالیٰ نے ظاہر میں مسلمانوں کے لئے مقرر فرمائی ہیں ان کا حال اسی طرح کا ہے۔مثلاً عید الفطر ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہارے دلوں میں روزہ رکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔پھر تم نے روزہ رکھنے کی نیت کی۔پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق بخشی کہ تم رمضان کے پورے کے پورے روزے رکھ سکو۔پھر اس نے ہمیں امید دلائی کہ میں تمہارے یہ روزے قبول کرلوں گا اور اس عبادت کے نتیجہ میں میں اپنے بندہ کو اپنی رضا کی جنت میں داخل کروں گا۔غرض چارخوشیاں ہمیں اس موقع پر بھی نظر آتی ہیں۔پھر ماہ رمضان کی عبادت میں قیام لیل بھی ہے دن کو ہم روزے رکھتے ہیں اور رات کو عام راتوں سے زیادہ عبادت کرتے ہیں۔اگر چہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے مہینے میں اتنے ہی نوافل پڑھا کرتے تھے جتنے نوافل آپ دوسرے دنوں میں پڑھا کرتے تھے لیکن حدیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ ان ایام میں آپ دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ وقت لگاتے تھے۔آپ بڑی لمبی لمبی رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور بعض دفعہ ان میں اکثر حصہ رات کا گزار دیتے تھے اور پھر آپ اس عبادت کو بڑے تعہد سے ادا کر تے تھے۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورۃ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آمَنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَقَابِمَا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَ يَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الالباب کہ جو شخص رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی صورت میں فرمانبرداری کا نمونہ دکھاتا ہے اور