انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 143
۱۴۳ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث حصہ دیا گیا۔اس کے بعد جو لوگ ترقی کر گئے انہیں تیس فی صدی۔پھر ان کے بعد آنے والے لوگوں کو چالیس کسی کو پچاس اور کسی کو ساٹھ فی صدی حصہ عطا کیا گیا۔سو فیصدی ہدایت صرف اُمت مسلمہ کو عطا کی گئی۔تو جس شخص کی، جس قوم کی ، یا جس نبی کی اُمت کی اللہ تعالیٰ نے صرف ہیں یا صرف تیں یا صرف چالیس یا صرف پچاس یا صرف ساٹھ فی صدی راہنمائی کی ہو اور اس راہنمائی کے نتیجہ میں انہوں نے اپنے رب کی عبادت کی ہو۔ان کی یہ عبادت اس عبادت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سو فیصدی راہنمائی کے بعد ایک مسلمان بجالاتا ہے اور ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان اُمتوں پر اللہ تعالیٰ کے جو انعام اس دنیا میں نازل ہوئے یا آئندہ اخروی زندگی میں نازل ہوں گے وہ ان انعامات کے مقابلہ میں نہیں رکھے جا سکتے جو ایک حقیقی مسلمان پر اس دنیا میں اور پھر اخروی زندگی میں نازل ہوتے ہیں بلکہ ان انعامات سے ان انعامات کو کوئی نسبت ہی نہیں۔یہاں ہمیں یہ بتایا کہ چونکہ یہ الکتاب نازل کی جاچکی ہے۔جس میں کوئی خامی اور نقص نہیں بلکہ اس میں ساری کی ساری خوبیاں جمع کر دی گئی ہیں۔فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ (البيئة :(۴) یہ سب کی سب قرآن کریم کا ہی حصہ تھیں جو اب پھر قرآن کریم میں اپنی اپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہیں بلکہ بہت کچھ زائد بھی اس میں رکھا گیا ہے۔اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اگر تم اس ہدایت کے مطابق عمل کرو گے تو تمہاری عبادت کامل اور مکمل ہوگی۔دوسری بات اس آیت میں ہمیں یہ بتائی گئی ہے فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ کہ عبادت کا مفہوم یہ نہ سمجھنا کہ اللہ اللہ کہ دیا یا درود پڑھ لیا یا سبحان اللہ پڑھ لیا یا الحمد للہ کہ لیا۔قرآن کریم کے نزدیک صرف اتنا یا محض اتنا کوئی عبادت نہیں۔اگر کوئی شخص مثلاً دس ہزار دفعہ درود پڑھتا ہے۔لیکن اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے اسوہ حسنہ نہیں بنایا۔تو اس درود پڑھنے کا اسے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔جب ہم درود پڑھیں تو ہمیں چاہیے کہ اس نیت سے پڑھیں کہ اے خدا! تو نے دنیا میں ہمارے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نہایت ہی اعلیٰ نمونہ بنایا ہے۔اور تو نے اسے اس لئے نمونہ بنایا ہے تا کہ ہم اس کی پیروی کریں اس کے نمونہ پر چل کر اس کے اخلاق اپنے اندر پیدا کریں اور اس کے رنگ سے رنگین ہوں تو ایسا درود ہمیں فائدہ دے گا۔