انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 142

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۴۲ سورة الزمر کی عادت ہے، تمہیں شرم کرنی چاہیے۔ورنہ تم بجائے روس سے لینے کے، بجائے امریکہ سے لینے کے یا چین سے لینے کے کسی بھی غیر ملک سے مانگنے کی بجائے تم قرآن کریم پر غور کر کے اپنے ماڈل فارم کا پروگرام بناتے۔لیکن میری یہ بات سن کر وہ چپ ہو گئے۔انہوں نے کبھی خیال بھی نہیں کیا کہ قرآن کریم میں بھی کوئی علم ہے۔حالانکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے مِنَ اللهِ الْحَكِيمِ کہ یہ حکیم اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اگر تم اس کی پیروی کرو گے، اس کے نور سے حصہ لو گے تو دنیوی علوم میں بھی کوئی قوم تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔کئی سو سال تک کی خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعہ میں خدا تعالیٰ نے یہ سچ فرمایا ہے کیونکہ علم کے میدان میں کئی سو سال تک مسلمانوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قوم کھڑی نہیں ہوسکی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ ہم نے کامل سچائیوں کے ساتھ یہ قرآن تیرے پر نازل کیا ہے۔چونکہ یہ کامل صداقتوں اور کامل حقائق پر مشتمل ہے۔فَاعْبُدِ اللہ اس لئے اے مسلمان ! تو اپنے اللہ کی عبادت کر۔اس میں ہمیں یہ بتایا کہ حقیقی اور سچی عبادت جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی اور کھینچنے والی ہے وہ اس شخص کی ہو سکتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبادت کے کامل اور مکمل اصول بتائے گئے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی کامل رہبری فرما دی ہو۔پھر یہ بھی بیان فرما دیا کہ یہ الکتاب پہلی کتب کی طرح نہیں ، جن میں کچھ صداقتیں تو بیان کی گئی تھیں۔لیکن ساری صداقتیں بیان نہیں کی گئی تھیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ تمام صداقتوں اور تمام حقائق کو ذہنی طور پر بھی۔جسمانی نشوونما کے لحاظ سے بھی اور اخلاقی ارتقا کے لحاظ سے بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔پس ان کی طرف کچھ صداقتیں یا یوں کہیے کہ الکتاب کا ایک حصہ نازل کیا گیا اور اگر یہ سچ ہے اور یقینا یہی سچ ہے تو پھر ان کی عبادت اور ایک سچے مسلمان کی عبادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ ان کی عبادت نتیجہ ہے مثلاً بیس فی صدی ہدایت کا۔اگر انہیں کامل ہدایت ملی ہوتی تو ہم کہتے کہ ان کی عبادت سو فیصدی کامل ہدایت کے مطابق ادا کی گئی۔مگر ایسا نہیں۔کیونکہ پہلی قوموں میں سے بعض کو کامل ہدایت کا مثلاً بیس فی صدی