انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 141
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۴۱ سورة الزمر باقی ہے جو مثلاً روس کی لائبریری میں ہے اور ہماری دسترس سے باہر ہے اور ہم اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔یا اگر کہیں چھپی ہوئی ہوں تو کہہ نہیں سکتے۔اسی طرح طب ہے اور دیگر جتنی سائنسز ہیں اور جتنے دوسرے علوم ہیں ان کے متعلق یہ لوگ اب مجبور ہو کر تسلیم کر رہے ہیں کہ ہم نے ابتداء انہیں مسلمانوں سے سیکھا ہے۔پس جس وقت مسلمان قرآن کریم کی قدر کرنے والا تھا۔قرآن کے نور سے حصہ پانے والا تھا۔وہ تمام ان اقوام کا استاد تھا۔لیکن پھر مسلمان کہلانے والوں نے اپنے غرور اور نخوت میں عملاً یہ اعلان کر دیا کہ ہمیں قرآن کریم کی ضرورت نہیں۔ہماری عقل ہی ہمارے لئے کافی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم نے اپنی ناقص عقل پر ہی بھروسہ کرنا ہے۔تو پھر جاؤ اپنی عقل سے کام لے کر دیکھ لو اور آخر یہ ہوا کہ ہمیں علم کے ہر میدان میں بھیک مانگنی پڑ گئی ہے۔یہاں تک کہ جو موٹی موٹی باتیں ہیں۔جو آسانی سے ایک غیر دیندار مسلمان بھی قرآن کریم سے حاصل کر سکتا تھا۔وہ بھی ہمیں حاصل نہ رہیں کیونکہ قرآن کریم کی طرف ہماری توجہ ہی نہیں۔مثلاً ماڈل فارم ہیں آپ میں سے جو سفر کرنے والے ہیں وہ دیکھتے ہوں گے کہ ہر پانچ دس میل کے فاصلہ پر مختلف آدمیوں کے نام پر ماڈل فارم بنائے گئے ہیں۔زید کا ماڈل فارم، بکر کا ماڈل فارم وغیرہ یہ جو ماڈل فارمنگ ہو رہی ہے یہ سب مانگے کی ہے۔کسی مہذب قوم کے سامنے ہم اپنی آنکھیں اور سر اٹھا نہیں سکتے کیونکہ ہم خود منگتے ہیں اور ہمارا دامن ان کے سامنے پھیلا ہوا ہے۔ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ”ید سفلی‘ رکھنے والے ہیں۔ہمارا ہاتھ نیچے ہے اور ان کا ہاتھ اوپر ہے حالانکہ خود قرآن کریم نے ہمیں روحانی باتیں سمجھاتے ہوئے کئی قسم کے ماڈل فارم کی مثالیں ذکر کی ہیں۔اور ان میں سے بعض ایسے ماڈل فارم بیان ہوئے ہیں کہ جن کے لئے پاکستان کی سالانہ آمد اگر تیس سال تک بھی خرچ کر دی جائے تب بھی وہ ریسرچ پروگرام اتنے کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔اتنی زبردست تحقیقی باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں۔بے شک قرآن کریم ہمیں علم زراعت سکھانے نہیں آیا۔لیکن زراعت کو پیدا کرنے والا خدا ہمیں زراعت کی زبان میں روحانی باتیں سکھاتا ہے اور ضمناً ہمیں وہ باتیں بھی بتا جاتا ہے۔جو ہماری زراعتی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔میں نے کئی دفعہ اپنے ماہرین زراعت سے کہا ہے کہ تمہیں مانگنے