انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 140 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 140

تفسیر حضرت علیای امسیح الثالث پر کھڑا کر دے گا۔۱۴۰ سورة الزمر پھر فرمایا کہ جس اللہ نے یہ کتاب تمہیں بھجوائی ہے وہ صرف الْعَزِیزُ ہی نہیں۔الْحَكِيمُ بھی ہے الْحَكِيمُ کے معنی صاحب حکمت کے ہیں۔حِكمة عربی زبان میں عدل، علم، حلم، فلسفہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔تو الْحَکیم کے ایک معنی یہ ہوئے کہ وہ علم رکھنے والی ہستی ہے۔اس سے زیادہ علیم کوئی نہیں۔تو اللہ تعالیٰ جس نے یہ قرآن نازل کیا ہے وہ ذات ہے جس کے علم کے مقابلہ میں ساری دنیا کے علوم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔کامل علم اس کے پاس ہے۔کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔دنیا کے ہر ظاہر و باطن پر اس کی نظر ہے۔ماضی و حال و مستقبل اس کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے کہ ایک انسان کیلئے ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ جو حقیقتاً اس کے لئے حال بنتا ہے۔پس یہ وہ ذات ہے جو زمانہ سے بھی از فع ہے۔جو مکان سے بھی بالا ہے۔اس کے علم کے مقابلہ میں کوئی علم ٹھہر نہیں سکتا۔اسی علم کے منبع سے یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔اس لئے اگر تم قرآن کریم کا غور سے مطالعہ کرو گے۔اس کو سمجھو گے، اس کے علوم کے حصول کے لئے اپنے رب سے دعائیں کرتے رہو گے تو تمہیں وہ علوم عطا کئے جائیں گے کہ دنیا کے سارے عالم تمہارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔چنانچہ ابتداء زمانہ اسلام میں جو ترقی کا زمانہ ہے۔ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔مغرب کے جتنے بڑے بڑے فلاسفر گزرے ہیں۔ان سب نے اپنی فلاسفی یا ان نظریات میں جو انہوں نے پیش کئے ہیں کسی نہ کسی مسلمان محقق۔بھیک مانگی ہے۔ایک جرمن فلاسفر کانٹ بہت مشہور فلاسفر ہے جسے صرف جرمنی میں ہی نہیں بلکہ انگلستان اور امریکہ اور دوسری مہذب دنیا میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے بڑے دماغ والا خیال کیا جاتا ہے۔اس کی بہت سی تھیوریز اور نظریے جو اس نے دنیا کے سامنے پیش کئے۔میں ذاتی علم رکھتا ہوں کہ ان نظریات کو ہمارے مسلمان علماء نے کانٹ (Kant) سے بہتر طریق پر صدیوں پہلے ہی دنیا کے سامنے پیش کیا ہوا ہے۔اس وقت تو ان علماء کی کتب بھی دنیا میں موجود تھیں۔بعد میں اسلام کے خلاف جو تعصب سے کام لیا گیا۔اس کے نتیجہ میں ہماری بہت سی لائبریریاں جلا دی گئیں۔اور بہت بڑے پایہ کی کتابیں ایسی ہیں جو یا تو اس وقت دنیا سے کلیتاً مفقود ہیں۔یا ان کی ایک آدھ جلد